سرینگر //سرینگر کے صدراسپتال میں شعبہ امراض چشم میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے نوجوانوں کی چیخ و پکارپھر سے سنائی دینے لگی ہے کیونکہ جمعہ کو فورسز اہلکاروں کی جانب سے جامع مسجد سرینگر کے اندر کی گئی پیلٹ کی برسات میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ صدر اسپتال سرینگر کے ا عدادوشمار کے مطابق جمعہ کو جامع مسجد سرینگر کے اندر کی گئی پیلٹ فائرنگ میں 34افراد پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے تھے جن میں 24 افراد کے آنکھوں میں پیلٹ لگے ہیںجن میں 12کو ابتدائی علاج کے بعد گھر روانہ کیا گیا جبکہ 12ابھی بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جمعہ کو سرینگر کی جامع مسجد میں فورسز اہلکاروں کی کارروائی کے نتیجے میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کی تعداد میں ابھی بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ آج بھی کئی نوجوان صدر اسپتال سرینگر میں علاج و معالجہ کیلئے آئے۔ صدر اسپتال سرینگر کے شعبہ نیرولوجی میں علاج و معالجہ کیلئے آئے ایک 21سالہ نوجوان عبدالقیوم نے بتایا کہ وہ جامع مسجد سرینگر میں نماز ادا کرنے کیلئے گیا ہوا تھا مگر نماز ختم ہوتے ہی فورسز اہلکاروں نے پیلٹ اور کاربن گولیوں کے کئی رائونڈ جمع مسجد سرینگر کے اندر چلائے جس کی وجہ سے انکے سر میں بھی کئی پیلٹ لگے ہیں۔ مزکورہ نوجوان نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں کی جانب سے مسجد کے اندر پیلٹ چلائے جانے سے متعدد نمازی بھی زخمی ہوئے مگر بیشر نمازیوں نے فورسز کے ڈر سے اسپتال کا رخ نہیں کیا ۔ آنکھ میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے ایک اور نوجوان نے بتایا کہ جمعہ کوہم اپنے دادا کے ساتھ جامع مسجد نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے مگر نماز ختم ہوتے ہی فورسز اہلکاروں نے جامع مسجد سرینگر کے اندر پیلٹ چلائے جس کے نتیجے میں میرے دادا کی ٹانگوں میں پیلٹ لگے جبکہ میری بائیں آنکھ میں بھی ایک پیلٹ لگا ہوا ہے۔ صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے بتایا ’’جمعہ کو صدر اسپتال سرینگر میں 34افراد کو داخل کیا گیا جو پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ34زخمیوں کا اندرا ج کیا گیا جن میں 24آنکھوں میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جن 24نوجوانوں کی آنکھوں میں پیلٹ لگے ہیں میں سے 12نوجوانوں کو ابتدائی مرہم پٹی کے بعد جمعہ کو ہی گھر روانہ کیا گیا تھا جبکہ 12نوجوانوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جن میں خانیار سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی آنکھوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔