عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیری دستکاروں کی منفرد مہارت کو محفوظ بنانے کے ایک تاریخی اقدام میںکشمیر کی 8 مزید روایتی مصنوعات کو جی آئی رجسٹری ،چنئی کی طر ف سے ان کے اصل ذرائع کی بنیاد پر جغرافیائی اشارے ( جی آئی )سر ٹیفکیٹ دئیے گئے ہیں۔جی آئی رجسٹریشن جعلی مصنوعات کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، غیر مجاز اِستعمال کو روکتا ہے، برآمدات کو بڑھاتا ہے اور ایک مخصوص جغرافیائی علاقے سے وابستہ سامان کے پروڈیوسروں کے لئے معاشی خوشحالی کو فروغ دیتا ہے.ہینڈی کرافٹس اور ہینڈلوم ڈیپارٹمنٹ کشمیر کے ترجمان نے بتایاکہ کشمیر نمدہ، کشمیر گبہ، کشمیر ولو بیٹ، کشمیر ٹویڈ، کریول ، کشمیر چین سٹچ، شکارہ اور وَگوو کو جی آئی رجسٹریشن حاصل کر لی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اَب تک جی آئی رجسٹرڈ دستکاریوں کی کُل تعداد 15 ہو گئی ہے جبکہ پہلے ہی 7 دستکاریاں یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ترجمان نے جی آئی رجسٹریشن کے فوائد کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ 8 نئی مصنوعات برآمدات کو فروغ دیں گی اور بین الاقوامی منڈیوں تک زیادہ رَسائی حاصل کریں گی جس سے مانگ میں اِضافہ ہوگا۔ اُنہوں نے مزید کہا، ’’رجسٹریشن کے بعد جی آئی لیبلنگ غیر مجاز استعمال کو روکنے میں مدد دے گی اور صارفین کو مستند مصنوعات تک رسائی کو یقینی بنائے گی۔‘‘اُنہوںنے جی آئی رجسٹریشن کے بعد جانچ اور کیو آر لیبلنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محکمہ پہلے ہی آئی آئی سی ٹی ، سِی ڈِی آئی اور کوالٹی کنٹرول ڈویژن میں اَپنی جانچ لیبارٹریوں کی اَپ گریڈیشن کے لئے تجاویز پیش کر چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا ،’’ فروخت کی جانے والی مصنوعات کی اصلیت، مشینوں میں فروخت کی گئی مصنوعات کی اصلیت کو یقینی بنایا ہے۔‘‘