اﷲ تعالی نے کوئی چیز بھی بے مقصد پیدا نہیں کی۔اس کائنات میں ایک ذرے سے لے کر،پودے پتے،جھاڑ جھنکار اور ریت کے ذروں سے لے کر پہاڑ،چٹانیں،غاریں اور دریا اور سمندر تک بے شمار مخلوقات ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ان دریاؤں اور سمندروں کے اندر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں ،اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جوپہاڑوں کے درمیان وادیوں میںاور زمین کی گہرائیوں میں اور پتھروں کے اندر اور درختوں کی جڑوں سے چمٹے ہوئے اس دنیا میں موجود ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس طرح کی مخلوقات جو ہنوزانسانی مشاہدے میں نہیں آسکیں اﷲ تعالی کی خلاقی کا پتہ دیتی ہیں ۔لیکن یہ سب قطعاََ بھی بے مقصد نہیں،اتفاقََانہیں اور نہ ہی الل ٹپ ہیں بلکہ اﷲ تعالی نے یہ سب ایک نظام کے تحت ،ایک منصوبے کے مطابق اور ایک منزل کے تعین کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے۔ان ساری مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق حضرت انسان ہے جسے اﷲ تعالی نے خود اشرف المخلوقات کہا ہے۔
اسی انسان کے ہاں ایسے بچے بھی جنم لیتے ہیں جو بعض اوقات جسمانی یا ذہنی طور پر معذورہوتے ہیں،لیکن حضرت آدم کی نسل سے ہونے کے باعث وہ اﷲ تعالی کے ہاںسے حق عزت ساتھ لے کر آئے ہیں اور انسانی معاشرے میں معزز و محترم ہیں کہ اس معاشرے کے خالق نے انہیں یہ حق عطاکیا ہے اور کوئی قانون،کوئی تہذیب،کوئی معاشرت ،یا رویہ ان سے ان کا یہ حق چھین نہیں سکتا۔قدرت کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتی وہ اگر کسی کوایک چیز سے محروم کرتی ہے تو اسکا بہترین نعم البدل بھی عطا کرتی ہے،چنانچہ عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ معذورافراد بعض اوقات بہت بلا کے حافظے کے مالک ہوتے ہیں ،خاص طور پرنابینا افراد میں سے بعض کا حافظہ اس قدر قوی ہوتا ہے کہ دس سال بعد بھی صرف ہاتھ ملانے سے پہچان لیتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں کب ملے تھے وغیرہ۔اسی طرح ہاتھوں سے معذور افراد بعض اوقات پاؤں سے اسطرح کے کام کر لیتے ہیں اچھابھلاآدمی بھی ایسا نہ کر سکے۔بہت سی دوسری چیزوں کے ساتھ جو نقطہ نظر گہری تبدیلی سے گزر چکاہے اور جس کے نتیجہ میںقانون سازی کی گئی ہے ، وہ ہے انسانوں میں معذوری کی تفہیم۔ ایک وقت تھا جب ایسے لوگوں کو بدقسمتی سمجھا جاتا تھا ، اور پھر ایسے لوگوں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ ان کے والدین یا اہل خانہ ان کا خیال رکھتے تھے لیکن آخر کار ان کے لئے پوری دنیا تاریک ہوتی تھی۔ لیکن جیسے ہی جدید علوم ، اور قانون و گورننس کے جدید اداروں نے جنم لیا ، معذوری کے بارے میں ہمارے تصورات بدلنا شروع ہوگئے۔ مختلف معذور افراد کے لئے نہ صرف طبی علاج میسر ہونے لگا بلکہ معاشرے اور ریاست کے طرز عمل میں بھی بدلاؤ شروع ہوا کہ معذور افراد کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جائے۔ اب انھیں مزید بوجھ نہیں سمجھا جاتا ہے اور بد قسمتی کا ٹیگ آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے۔ کریڈٹ اس مسئلے میں ایک جامع تبدیلی کو جاتا ہے جس نے اس ضمن میں لوگوں اور حکمرانوںکی سوچ ہی تبدیل کردی۔ لیکن بدقسمتی سے ہم اس ضمن میں دنیا کے ترقی یافتہ حصے سے ابھی بھی بہت پیچھے ہیں۔ ایک معاشرے کی حیثیت سے ، اور حکومت کی سطح پر بھی ، ہم نے اپنے نظاموں میں معذور افراد کو مربوط کرنے کے لئے کافی کام نہیں کیا ہے۔ تعلیم کی مثال لیں۔ ہمارے باقاعدہ اسکول ان لوگوں کو تعلیم کی فراہمی کے مناسب آلات سے لیس نہیں ہیں۔ ہمارے پاس اتنے انتظامات نہیں ہیں کہ وہ خصوصی طور پر تعمیر شدہ اسکولوں میں تعلیم فراہم کرسکیں۔ اسی طرح ہمارے اسپتالوں میں ایسے لوگوں کا خیال رکھنے کے لئے کوئی مخصوص انتظامات نہیں ہیں۔ سول سوسائٹی کی سطح پر ہم نے ایسا نظم نہیں کیاہوا ہے جس میں یہ لوگ آرام سے اپنی زندگی گزار سکتے۔ یہاں تک کہ ہمارے پاس والدین ،کنبہ کے افراد ، عہدیداروں ، اساتذہ اور ڈاکٹروں کو اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کو آگاہ کرنے کے پروگرام نہیں ہیں۔ یہ ہماری طرف سے ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس سلسلے میں ترقی یافتہ معاشروں کے اختیار کردہ طریقوں کی تقلید کریں۔ قانون سازی ، تعلیم ، طبی نگہداشت ،حکمرانی کے دیگر اداروں اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی ان لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور ان کی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے، آرام دہ بنانے کے لئے ایک ہمہ گیر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معذور افراد کو حتی الامکان اعتماد نفسی دینا چاہیے اور ان میں سے اس احساس کو کم سے کم کرنا چاہیے کہ وہ معذور ہیں۔ان سے اس طرح کا رویہ رکھنا چاہیے کہ جیسے وہ صحیح الاعضا والحواس ہیں۔ان کی معاشرتی تربیت معاشرتی ومذہبی اقدار کے بالکل عین مطابق ہو تاکہ ان میں ذہنی بالیدگی وقوع پزیر ہو سکے اور مسلسل ارتقا پزیر رہے۔ناپسندیدگی اور چڑ جانے کارویہ اور بہت جلد غصہ اور بعض اوقات قابو سے باہر ہوجانا مخصوص افراد کی نفسیات ایک کمزور پہلو ہوتا ہے،اکثر لوگ مزے لینے کے لیے معذور افرادکو تنگ کرتے ہیں جس سے یہ افراداپنے ان منفی رویوں میں مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیںاور بالآخریہ رویے اان معذورافراد کی پہچان بن جاتے ہیں۔اس طرح مخصوص افراد کو گویا انکی محرومیوں میں اندر تک مزیددھکیل دیا جاتا ہے،جس سے اصلاح احوال کی منزل کی بجائے بگاڑکا گڑھاقریب آلگتاہے۔