عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وقف ترمیمی بل 24کروڑ کو مسلمانانِ ہند نے پہلے ہی مسترد کردیاہے اور اس بل ناقابل قبول بھی قرار دیاہے۔ اس بل کا درپردہ مقصد مرکز میں سخت گیر حکومت کو مسلمانوں کی جائیداد ہڑپ کرنے اور مسلمانِ ہند کے مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کا راز کارفرما ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے ترجمانِ اعلیٰ اور ایم ایل اے جڈی بل نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی پوری قیادت کیساتھ ساتھ جموںوکشمیر اور لداخ کے عوام نے بھی اس بل کو سرے سے ہی یکسر مسترد کردیاہے، بدقسمتی سے جب سے بھاجپا سرکاری معروض وجود آئی تب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور مذہبی معاملات جاری رکھی گئی ہے، جو آئین ہند اور ہندوستان کی جمہوریت پر بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کی مساجد ، دارالعلوموں اور جائیدادوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ تنویر صادق نے کہا کہ آئین ہند میں مذہبی آزادی اندراج ہے اور سبھی فرقوں کیساتھ انسانیت اور مساوات کا سلوک کرنا بھی درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جموں وکشمیر اسمبلی کے سپیکر کو ایک تحریری خط ارسال کیا ہے اور اُن سے درخواست کی ہے کہ اسمبلی میں وقف بل پر بحث کی جائے، کیونکہ جموںوکشمیر کے عوام نے اس بل کے بارے میں زبردست تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔