عازم جان
بانڈی پورہ// سرحدی ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب تلیل کے کشپتھ گاؤں میں ہفتے کی علی الصبح لگی آگ نے تباہی مچا دی، جس میں کم از کم 27 ڈھانچے مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے ،جن میں رہایشی مکانات ،گائوخانے اور آنگن واڈی مرکز شامل ہیں۔اس واقعہ میں 23افرادزخمی ہوئے جن میں ایس ایچ اوتلیل بھی شامل ہے جنہیں شدیدزخمی حالت میں داور منتقل کردیا گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ تلیل میں سبھی رہائشی مکان اوردیگرڈھانچے لکڑی سے بنے ہوئے ہیں۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آگ اچانک ایک مکان سے شروع ہوئی اور چند ہی لمحوں میں تیز شعلوں نے پورے محلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چونکہ زیادہ تر مکانات لکڑی سے تعمیر شدہ تھے اس لئے آگ تیزی سے پھیل گئی اور تمام تر کوششوں کے باوجود قیمتی ڈھانچے لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ۔عینی شاہدین کے مطابق، آسمان کو چھوتی لپٹیں اور گھنا دھواں میلوں دور تک دکھائی دے رہا تھا، جبکہ گاؤں کے مرد، عورتیں اور بچے گھبراہٹ کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے ۔ کئی متاثرہ کنبے صرف تن کے کپڑوں کے ساتھ گھروں سے باہر بھاگنے پر مجبور ہوئے ۔ایس ڈی ایم گریز نے کہا کہ آگ میں زیادہ تر ڈھانچوں میں گودام شامل ہیں جہاں مویشی ، ان کا چارہ ذخیرہ رکھے جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ اندو کنول چھب نے بتایا ہے کہ اطلاع موصول ہوتے ہی امدادی ٹیموں کو سامان وغیرہ کے ساتھ فوری طور پر روانہ کیا گیا ہے اور محکمہ مال کے اہلکاروں کو نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔