حدیقہ حمید
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ قوم ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ اگر معاشرے کے تمام افراد تعلیم یافتہ ہوں، تو وہ بہتر انداز میں اپنی زندگی کے فیصلے کر سکتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم تعلیم کو صرف مردوں تک محدود کر دیں اور عورتوں کو اس سے محروم رکھیں، تو یہ ایک بڑی ناانصافی ہو گی۔ عورتیں معاشرے کا نصف حصہ ہیں اور اگر وہ تعلیم یافتہ نہ ہوں، تو پورا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ تعلیم یافتہ عورت ہی ایک بہتر ماں، اچھی بہن، ذمہ دار بیوی اور ایک باشعور شہری بن سکتی ہے۔ اگر عورتوں کو تعلیم سے محروم رکھا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف ان کی ذاتی زندگی پر پڑتے ہیں بلکہ پورے معاشرے پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک اَن پڑھ عورت اپنے بچوں کی تربیت بہتر انداز میں نہیں کر سکتی، کیونکہ اس میں وہ شعور اور آگاہی نہیں ہوتی جو ایک تعلیم یافتہ ماں میں ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہو، تو وہ اپنے بچوں کو بھی علم کی روشنی سے منور کرے گی اور یوں ایک باشعور نسل پروان چڑھے گی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’اگر ایک مرد کو تعلیم دی جائے تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے، لیکن اگر ایک عورت کو تعلیم دی جائے تو پوری نسل تعلیم یافتہ ہو جاتی ہے۔‘‘
اسلام نے بھی عورت کی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا صرف مردوں کا حق نہیں بلکہ عورتوں کا بھی اتنا ہی حق ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں کئی ایسی عظیم خواتین نظر آتی ہیں جنہوں نے علم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ حضرت عائشہ ؓ ایک بہت بڑی عالمہ تھیں اور ان سے کئی صحابہ کرامؓ نے علم حاصل کیا۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ اسلام میں عورتوں کی تعلیم کی کتنی اہمیت ہے۔تعلیم ایک عورت کو شعور، آگاہی اور خود اعتمادی دیتی ہے۔ اگر عورت تعلیم یافتہ ہو تو وہ اپنے حقوق اور فرائض کو بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔ وہ اپنے گھر کے معاملات کو بھی اچھی طرح چلا سکتی ہے۔ تعلیم عورت کو خود مختار بناتی ہے اور وہ زندگی کے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کر سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کی تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں اور ان کا اصل مقام صرف گھر کی چار دیواری میں ہے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ اسلام نے عورتوں کو ہمیشہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سیکھنے اور سکھانے کا حق دیا ہے۔ ایک عورت صرف گھر تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک خاندان کی معمار بھی ہوتی ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہو گی، تو وہ نہ صرف اپنے گھر کو بہتر انداز میں سنبھالے گی بلکہ اپنی نسل کی بھی بہترین تربیت کرے گی، جو آگے چل کر ایک اچھے معاشرے کی بنیاد رکھے گی۔
آج کے جدید دور میں خواتین ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، سائنسدان اور دیگر کئی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔ وہ اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اپنے خاندان کو ایک بہتر مستقبل فراہم کر سکتی ہے۔ وہ اپنے حقوق کی پہچان رکھتی ہے اور اپنے فرائض بھی بہتر انداز میں ادا کرتی ہے۔ اگر عورت کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے، تو وہ مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔کئی ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ وہ قومیں جہاں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کیے گئے، وہ آج ہر میدان میں کامیاب ہیں۔ اس کے برعکس، وہ ممالک جہاں عورتوں کی تعلیم کو نظر انداز کیا گیا، آج بھی پسماندگی اور جہالت کا شکار ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنے ملک اور معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا۔
والدین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بھی وہی سہولیات دیں جو بیٹوں کو دی جاتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ بیٹی نہ صرف اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے گی بلکہ وہ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی سوچ کو وسیع کریں اور خواتین کی تعلیم کو فروغ دیں تاکہ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
(نویں جماعت کی طالبہ، ریڈیئنٹ پبلک اسکول، اننت ناگ)
[email protected]