عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سری نگر میں شاردا یونیورسٹی کے المیونی میٹ سے خطاب کیا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں یونیورسٹی کے سابق طلبأ، اِنتظامیہ، اَساتذہ اور موجودہ طلبأ کو مُبارک باد پیش کی۔اُنہوںنے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی میں حاصل کردہ صلاحیتوں کو قوم کی تعمیر اور عوام کی زندگی کو بہتر بنانے میںاِستعمال کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’علم ایک انمول دولت ہے ۔ تعلیم ہی واحد اثاثہ ہے اور یہ ایک چھوٹے چراغ کی مانند ہے جو شدید تاریکی کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم کے روحانی اور ثقافتی جہت کو تلاش کرنا چاہیے اور اس کے اَقداری نظام کی قدر کرنی چاہیے۔‘‘اُنہوںنے اس بات پر زور دیا کہ فارغ التحصیل طلبأ (المیونی) نیٹ ورکنگ، رہنمائی اور تعلیمی ادارے کی ساکھ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علم کے تبادلے میں بھی کلیدی کردار اَدا کرتے ہیں۔منوج سِنہا نے کہا،’’ المیونی نوجوان طلبأ ایک رول ماڈل کے طور پر کام کرتے ہیں اور نوجوا ن طلبأ کو اَپنے اہداف اور مقاصد کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
اگلی دو دہائیاں دُنیا میں علمی معیشتوں کے لئے بہترین وقت ہونے کی اُمید ہے ۔ آپ، بطور علم کے امین، یونیورسٹی میں حاصل شدہ مہارتوں کو اِقتصادی شعبے میں منتقل کر کے ترقی کو آگے بڑھانے اور ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے ذمہ دار ہوں گے۔‘‘اُنہوں نے سابق طلبأ پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشوں یا کاروبار میں اَقدار پر مبنی نظام کو فروغ دیں تاکہ اَپنی مکمل صلاحیتوں کو فروغ دینے اور نئی نسل کو بھی قومی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دے سکیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جموں و کشمیر میں تعلیمی منظرنامے میں ہو رہی تبدیلیوں پر بھی بات کی۔اُنہوں نے تعلیمی اِداروں اور تدریسی کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ قومی تعلیمی پالیسی۔ 2020 کو صحیح معنوں میں عملائیں، ایک ساز گار ماحول تیار کریںجو اِختراعات ، ہنر کی ترقی ، تجرباتی تعلیم اور نوجوانوں کو مثبت تبدیلی کے ایجنٹ کے طور پر بااختیار بنانے میں معاون ہو۔لیفٹیننٹ گورنرنے مزید کہا،’’ہمیں ایک طویل مدتی وژن کے تحت ایک مضبوط اختراعی نظام تشکیل دینا ہوگا اور اس وژن کو شاردایونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں کے ذریعے پروان چڑھانا چاہیے۔ ہمیں ایسے نڈر اور متجسس ذہنوں کی ضرورت ہے جو اختراعات کریں اور اسے ہندوستان کے فائدے کے لئے بروئے کار لائیں۔‘‘اُنہوں نے عالمی مارکیٹ کے اُبھرتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔منوج سِنہا نے معیاری تعلیم فراہم کرنے اور مستقبل کے رہنماؤں کو پروان چڑھانے میں شاردا یونیورسٹی کے اہم خدمات کو بھی سراہا۔