عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت سماج کو پولرائز کر رہی ہے اور وقف بل جیسے اقدامات سماج کو تقسیم کرنے کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین کانگریس کی حکمرانی والی ریاستوں کے مسائل پر پارلیمنٹ میں کانگریس پر شدید حملہ کرتے ہیں، اس لیے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں اس کی ناکامیوں پر ایوان میں منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے عام اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ یہ بل آج راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور اس پر کانگریس کا موقف پہلے کی طرح ہی واضح ہے۔ پارلیمانی پارٹی کی اس میٹنگ میں پارٹی کے تمام سینئر لیڈران بشمول راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی موجود تھے۔
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی رہنما نے اپنے خطاب میں کہا، “کل وقف ترمیمی بل، 2025 لوک سبھا میں منظور کیا گیا اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے۔ اس بل کو زبردستی لوک سبھا میں پاس کیا گیا ہے۔ اس بل کے بارے میں ہماری پارٹی کا نظریہ واضح ہے کہ یہ آئین پر حملہ ہے۔ اس طرح کے بل کو پاس کرکے بی جے پی معاشرے کو مستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھنے کی سوچی سمجھی سیاست کے تحت کام کرکے معاشرے کو تقسیم کرنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں کام کاج کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا، “میں نے دیکھا ہے کہ بی جے پی کے ارکان ہماری ریاستی حکومتوں کوجارحانہ انداز میں نشانہ بناتے ہیں، خاص طور پروقفہ صفر کے دوران۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ سب کو بھی بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں حکومت کی ناکامیوں اور غلط حکمرانی کو جارحانہ انداز میں اٹھانا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں زیادہ گہرائی سے ہوم ورک اور تحقیق کرنی ہوگی۔کانگریس صدر انتخابی ریاستوں کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ضلعی صدور کے ساتھ ایک میٹنگ کی نیز آج اور کل بھی میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس کے بعد، اگلے ہفتے احمد آباد میں کانگریس کا اجلاس ہے۔