سرینگر//بڈشاہ چوک میں اتوار کو اس وقت لوگ سینہ پیٹتے رہے جب انکی آنکھوں کے سامنے محکمہ بجلی کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں ترسیلی لائنوں کو تبدیل کرنے کے دوران روزانہ اُجرت پر کام کرنے والا ایک مزدور موت کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ واقعہ میں اُس کا دوسرا ساتھی صدر ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے جبکہ چیف انجینئر شہناز گونی نے واقعہ اور غفلت شعاری کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اسسٹنٹ ایگزیکٹیوانجینئرسمیت3افسران کو معطل کر دیا اور واقعہ کی نسبت محکمانہ تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔
واقعہ کیسے رونما ہوا
سرینگر کے بڈشاہ چوک میں اتوار دن کے قریب ایک بجے مشتاق احمد ولد عبدالخالق اور اس کا ساتھی ظہور احمد بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکنان رعنا واری بڈشاہ پل کے نزدیک بجلی کے ایک کھمبے پر چڑھ کر ترسیلی لائن کو ٹھیک کر رہے تھے تو اس دوران رسیونگ سٹیشن سے بجلی بحال کی گئی جس کے نتیجے میں دونوں مزدوروں کو بجلی کے زوردار جھٹکے لگے ۔زوردار جھٹکوں کی وجہ سے اگرچہ ظہور احمد کھمبے سے نیچے گر کر شدید زخمی ہوا تاہم مشتاق احمد کھمبے کے ساتھ ہی بندھی ترسیلی لائنوں کے بیچ پھنس گیا اور قریب پونہ گھنٹہ تک وہاں ہی لٹکتا رہا۔اس دوران سینکڑوں لوگ یہاں جمع ہوگئے اور خواتین کی بڑی تعداد سینہ کوبی کرنے لگیں۔اس موقعہ پر فائر اینڈ ایمر جنسی عملہ، مقامی لوگوں اور پولیس اہلکاروں نے کسی طرح مشتاق احمد کی تاروں میں الجھی لاش کو نیچے لایا اور پولیس نے اسے اپنی تحویل میں لیا۔اس دوران جہانگیر چوک ، بربرشاہ ، مائسمہ ، کورٹ روڑ ، کوکربازار سے آئے سینکڑوں لوگ یہاںجمع ہو ئے جس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک جام بھی لگ گیا ۔ بلال احمد شیح نامی مزدورنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہم نے صبح محکمہ کو یہ اطلاع دی تھی کہ وہ بجلی سپلائی تب تک بند رکھیں جب تک ترسیلی لائن کی مرمت نہ ہو جائے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ مزدور جیسے ہی بجلی کھمبے پر چڑھ گئے تو اس دوران اچانک بجلی بحال کی گئی جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا‘‘ ۔محکمہ رفیق راتھر نامی ایک اور مزدور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہم روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بجلی کی ترسیلی لائینوں اور کھمبوں کو تبدیل کرنے کا کام کرتے ہیں، اتوار کو بھی ہم معمول کے مطابق یہ کام کر رہے تھے ،جبکہ ہم نے محکمہ کو اطلاع بھی دی تھی‘‘ ۔
رعناواری میں احتجاج
جونہی مزدوروں کے اہلخانہ کو افسوسناک اور دلخراش واقعہ کی نسبت اطلاع ملی تو وہ سینہ کوبی کرتے ہوئے صدر اسپتال پہنچ گئے ،جہاں ہر سو کہرام مچ گیا ۔ضروری لوازمات پورا کرنے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کی گئی اور جونہی مشتاق کی میت اُسکے آبائی علاقہ رعناواری پہنچا ئی گئی ،تو وہاں کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔بعد میں مرحوم کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔اس موقعہ پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔لواحقین نے بتا یا کہ یہ حادثاتی موت نہیں بلکہ نا قابل معافی غفلت ہے جسکی وجہ سے یہ جان لیواء حادثہ رونما ہوا۔مشتاق کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ مشتاق احمد گھر کا واحد کمائو تھا اور اپنے پیچھے تین بچے اور بیوہ چھوڑ گیا ہے ۔
مزدوروں کی نعرے بازی
شام دیر گئے ترسیلی لائینوں اور کھمبوں کی مرمت پر مامور رہنے والے مزدوروں نے پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے مانگ کی کہ اس واقعے میں ملوث ملازمین کو سزا دینے کے علاوہ ان کے ساتھی کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔
تین افسران معطل،تحقیقات شروع
ضلع ترقیاتی کشمیر فاروق احمد لون نے واقعہ کی تحقیقات کرنے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر سجاد قادری کو ہدایات جاری کردیں ہیں۔فاروق احمد لون نے بتایا کہ اگر اس واقعے میں کسی کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔پولیس نے بھی اس سلسلے میںکیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے ۔اس دوران محکمہ پی ڈی ڈی کے کمشنر سکریٹری کی ہدایت پرچیف نجینئر M&RE) (کشمیر نے ایک آڈر زیر نمبر 279اجرا کیا جس کے رو سے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرشیح باغ ،اسسٹنٹ انجینئر سب ڈویژن شیح باغ، جونیئر انجینئر شیح باغ ۔ٹکینکل فسٹ شیح باغ (Tech1 ) کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر نے کے احکامات صادر کئے ہیں۔محکمانہ تحقیقات کیلئے سپرانٹنڈنٹ انجینئر EM&REسرکل بجبہاڑہ جنید یوسف ڈار کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیاہے۔