مصروف منظور
بے شک ہر والدین کا یہ خواب ہوتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ صالح اولاد سے نوازے،لیکن ااُن کا یہ خواب تب ہی شرمندہ تعبیر ہوتا ہے جب والدین حضرات اپنے بچوں میں اچھےآداب و اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری ذہن نشین کرانے کی پوری ذمہ داری ٹھان لیں۔کیونکہ انسان کا اخلاقی طور پر بہتر یا بد کردار ہونے کا زیادہ دارو مدار اُس کی پرورش پر ہی ہوتا ہے،جس کی پوری ذمہ داری والدین کے کندھوں پر عائدد ہوتی ہے۔والدین ہی وہ مضبوط آلات ہوتے ہیں جو اپنےبچے سے نیک سیرت یا بد سیرت، اچھا یا بُرا نسان تراشنے میں ایک ایک مصوّر و معمار کاکردار ادا کرتے ہیں۔عمرو بن سعید بن عاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا۔‘‘جو والدین اپنے بچوں کی تربیت ایمانداری اور سچائی سے کرتے ہیں ،وہ اُس کا فائدہ عمر بھر اٹھاتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی ۔نہ صرف والدین ایسے اولادسے مستفید ہوتے ہیں بلکہ پورے معاشرے اس کاکو فائدہ پہنچتا ہے۔تاہم یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ بچوں کی اچھی تربیت کرنا کوئی ٸ آسان کام نہیں ہے،جسے والدین آسانی سے انجام دے سکتے ہیں بلکہ اس عظیم کام اور اہم ذمہ داری کے لئے زبردست محنت و مشقت اور الفت و محبت کی درکار ہوتی ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ایک بچہ حسنِ اخلاق کا مالک ہو اور اپنے والدین کے توقعات پر پورا اُترے، والدین کے لئے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت مندرجہ ذیل اسلامی ہدایات کے مطابق کریں۔پہلا یہ کہ والدین کو چاہئے کہ اہل علم کے مشورے کے ساتھ اپنے بچے کا ایسا نام منصوب کرے جو بولنے اور معنی دونوں اعتبار سے نہایت اچھا ہو۔رسول رحمتؐ نے فرمایا، قیامت کے دن آدمی اپنے نام اور باپ کے نام کے ساتھ پکارا جایائے گا۔( ابوداود)۔قابل نفرت معنی دار ناموں کی حمایت اسلام میں ہرگز نہیں کی گئی ہے۔ابن ماجہ کی ایک حدیث کے مطابق حرب (جنگ) اور مرہ (کڑوا) ناپسندیدہ اور ناگوار نام ہیں۔لہٰذا بچے کو ایک اچھا نام منصوب کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے،اچھے نام کا بچے کے وجود اور عزت پر کافی اثر پڑتا ہے۔مسیبؓ روایت کرتےہیں کہ اُن کے والد ( حزن بن ابی وہب ) نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرمؐ نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ’’حزن‘‘( بمعنی سختی ) ۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ تم ’’سهل‘‘( بمعنی نرمی ) ہو، پھر انہوں نے کہا کہ میرا نام میرے والد رکھ گئے ہیں، اسے میں نہیں بدلوں گا۔ ابن مسیبؒ بیان کرتے تھے کہ چنانچہ ہمارے خاندان میں بعد تک ہمیشہ سختی اور مصیبت کا دور رہا۔ (بخاری)
دوسرا، والدین کے لئے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم سے نوازے۔ خصوصی طور پر دینی تعلیم کی طرف اِن کا رجحان بڑھادے،ان میں قرآن و حدیث، فقہ اور نماز کا رواج عام کریں۔اس کے علاوہ انہیں دنیاوی تعلیم سے بھی آراستہ کریں تاکہ وہ نئے زمانے کے چلینجس کا بہ خوبی سامنا کرسکیںاور اپنے ملک و سماج کو فائدہ پہنچا سکیں۔
تیسرا، والدین کے لئے اہم ہے کہ اپنے بچوں میں اچھے عادات جیسے سچ بولنا ،نماز پڑھنا،سادگی ،ایمانداری،اچھے آداب وغیرہ ڈالنے کی انتہائی سعی کرنی چاہئے۔
چوتھا اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ والدین خود ایک مثالی کردار ادا کریں۔کیونکہ بچے کی نشونما پہ اپنے والدین کے ماحول کا زبردست اثر پڑتا ہے، جس میں وہ پلا بڑھتا ہے۔یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہوگا کہ اچھے بچے اچھے والدین سے ہی پیدا ہوتے۔اس لئے والدین حضرات کے لئے لازمی ہے کہ وہ بچوں کی پرورش میں اپنا کردار سے آشنا ہو جائیںاور پھرمحنت ،اُلفت اور محبت اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے بچوں کی احسن پرورش کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔جس کے باوصف اُن کے بچے اچھے انسان ثابت ہوکر اُن کے لئے دنیا وآخرت دونوں میں باعث نعمت و رحمت ثابت ہونگے۔
( مضمو ن نگار ایم اے معیشیات ہیں)
[email protected]