بلال فرقانی
سرینگر//بادامی باغ بٹوارہ میں فوج کی جانب سے ڈرین کے پانی کی مبینہ روکتھام کی وجہ سے علاقے میں گندھا پانی جمع ہو گیا ہے، جس کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے اس ڈرین سے علاقے کا پانی خارج ہوتا تھا، مگر گزشتہ ایک ماہ سے فوج نے اسے بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پانی علاقے میں جمع ہو کر بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔مقامی افراد کے مطابق 2014 میں سیلاب کے بعد جب فوجی کیمپ کی دیوار گر گئی تھی، تو فوج نے اس کی مرمت کے ساتھ ہی اس ڈرین کو فوجی کیمپ کے اندر منتقل لیا تھا۔ اس وقت لوگوں نے احتجاج کیا اور کہا تھا کہ ڈرین کو دیوار کے باہر ہی رکھا جائے، جیسے کہ سیلاب سے پہلے تھا۔ تاہم، فوج نے اس بات پر عمل نہیں کیا اور ڈرین کو کیمپ کے اندر ہی لیا۔ اُس وقت فوجی کمانڈر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر کبھی اس ڈرین میں کوئی مسئلہ آیا تو فوج فوری طور پر اس کی مرمت یا رکاوٹ دور کرے گی۔تاہم ایک ماہ قبل جب فوجی کیمپ نے اس ڈرین کو ریت کی بوریوں سے بند کیا، تو سارا پانی علاقے میں داخل ہو گیا، جس کے باعث گندہ پانی سڑکوں اور نالیوں کے ذریعے گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ گندہ پانی جلد ہی بدبو اور عفونت کا سبب بن رہا ہے اور گرمیوں کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی اس سے بیماریوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔محلہ کے باشندوںنے مقامی فوجی کمانڈر سے اس مسئلے کی اطلاع دینے کی کوشش کی لیکن انہیں کیمپ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ کنٹونمنٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر تک بھی فریاد پہنچائی گئی، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ مقامی باشندوں نے اس سلسلے میں اپنے رکن اسمبلی سے بھی رابطہ قائم کیا۔مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے سے فوری طور نجات دلائی جائے اور ان کے علاقے کو کنٹونمنٹ سے نکال کر میونسپل کارپوریشن میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے بلدیاتی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔