محمد تسکین
بانہال //محکمہ جنگلات ڈویژن رام بن کے جنگلات میں تعینات محکمہ جنگلات کے ملازمین پر جنگلات کی تباہی اور سرسبز درختوں کو کاٹنے کے مبینہ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور محکمہ کے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے سرسبز درختوں کو کاٹنے اور محکمہ جنگلات کے حکام کی طرف سے کوئی سخت کاروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے جنگل سمگلروں اور محکمہ کے ملوث ملازمین کے حوصلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور جنگلات کی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔پچھلے دو تین سال سے بانہال اور رام بن رینج کے مختلف جنگلات سے سرسبز سونے کو لوٹنے کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور اس لوٹ کھسوٹ کی خبریں عوام کیطرف سے محکمہ جنگلات کے حکام سے بار بار شیئر بھی کی گئی ہیں لیکن ملی بھگت میں ملوث چند خطا کار زمینداروں پر معمولی جرمانہ عاعد کرکے سرسبز سونے کی لوٹ مار میں ملوث محکمہ جنگلات کے ملازمین اور افسروں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ رام بن فارسٹ ڈویژن کے بلاک بنگارا ، اکڑال پوگل پرستان ، سینابتی ، کھڑی مہو۔منگت ، رامسو ، شگن ، سربگھنی اور راج گڑھ کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو شکایت ہے کہ ان علاقوں میں تعینات جنگلات کے محافظ ہی مبینہ طور پر سرسبز جنگلات کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور محکمہ جنگلات کے حکام کو وقت وقت پر عوامی شکایات ، فوٹو اور ویڈیو کے ثبوت پیش کئے گئے ہیں لیکن بار بار انہیں پرانے ثبوت قرار دیکر شکایات اور الزامات کو ہی سرے سے ہی مسترد کیا جاتا رہا ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ضلع رام بن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ذی عزت شہریوں نے الزام لگایا کہیںرام بن اور بانہال رینج کے متذکر ہ بالاعلاقوں میں محکمہ جنگلات کے ملازمین اور افسر ضرورتمند لوگوں اور پی ایم آواس یوجنا کے تحت مفت کے مکان بنانے والے غریبوں کو بھاری رقومات کے عوض سرسبز درخت فروخت کرکے جنگلات کے قومی سرمایہ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں اور یہاں تعینات افسر اور ملازمین مبینہ طور پر اپنی تجوریاں بھرنے میں ملوث ہیں۔ لوگوں کے ایک وفد نے جنگلات کی تباہیوں کے جیو ٹیگ کرکے اٹھائے گئے فوٹو اور ویڈیوز پیش کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فارسٹ بلاک بنگارا پوگل پرستان کے کمپارٹمنٹ نمبر 24 ،32 اور 33میں پچھلے کئی روز سے سرسبز درختوں کو کاٹنے کا کام جاری ہے اور اس میں لکڑی سمگلروں کو مبینہ طور پر محکمہ جنگلات کے ملازمین کا برابر ساتھ ہے اور محکمہ جنگلات کے افسران کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے محکمہ جنگلات کا فیلڈ عملہ کھلے عام سرسبز درختوں کو بیچ کر اپنے گھر بھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے ہاتھ سے چلنے والی لکڑی کاٹنے کی مشینوں کے استعمال پر ضلع مجسٹریٹ رام بن کی طرف سے مکمل پابندی عائد ہے وہیں دوسری طرف سے مشینوں اور آریوں سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے اور اس میں محکمہ جنگلات کے ملازمین براہ راست ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوگل پرستان میں فارسٹ بلاک بنگارا کے جنگلات پندرہ کمپارٹمنٹوں پر مشتمل ہیں اور ان علاقوں میں بنگارا ، نوگام ، چیولی ، گجراڑا ، سینابتی اور چنتھان کے جنگلات کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کیلئے محکمہ جنگلات کے ملازمین آواز اٹھانے والوں کو ڈراتے اور دھمکاتے ہیں اور دو سال قبل شکایت کرنے والے ایک شخص کی جم کر مار پیٹ بھی کی گئی۔ لوگوں کا الزام ہے کہ بانہال اور رام بن رینج کے جنگلات میں محکمہ جنگلات کی طرف سے درختوں کو کاٹنے کی سرکاری منظوری اور سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کی طرف سے لکڑی کی نکاسی کی آڑ میں بھی جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور محکمہ جنگلات کے چند منظور نظر ملوث افراد کے خلاف جرمانہ جیسی معمولی کاروائیاں کرکے محکمہ جنگلات کے ملوث ملازمین اور افسروں کو معنی خیز طور پر کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور جنگلات کی مبینہ لوٹ کھسوٹ کو جواز بخشا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹے گئے درختوں کے تنوں کو مٹی کے نیچے دبایا اور آگ کے حوالے کیا گیا ہے اور آج بھی ایسے ہی دفن سینکڑوں درختوں کے تنے محکمہ جنگلات کے ملازمین کے ساتھ مل کر کی گئی لوٹ کھسوٹ کی تباہی کی داستان بیان کرتے ہیں۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ بانہال اور رام بن رینج میں پچھلے تین چار برسوں کے دوران جنگلات کو پہنچائے گئے نقصانات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئے اور لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کو اس میں براہ راست دخل دینے کی ضرورت ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب ضلع رام بن کے جنگلات کو ختم کیا جائیگا۔ عوامی شکایات اور الزامات پرمبنی یہ تمام معاملہ جب ڈی ایف او رام بن ڈاکٹر راجن سنگھ کی نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے بات کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رام بن کے بنگارا بلاک سے عوامی شکایت موصول ہونے کے بعد محکمہ جنگلات نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی ہے اور اس معاملے میں ایک کیس درج کرکے کاٹی گئی لکڑی کی ضبطی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام بن کے بلاک بنگارا میں بہت سارے زمینداروں کو سوکھے اور گرے درختوں کو قواعد و ضوابط کے تحت کاٹنے کی منظوری دی گئی ہے اور محکمانہ تحقیقات کے بعد یہ صاف ہوجائیگا کہ آیا یہ درخت غیر قانونی طور کاٹے گئے ہیں یا منظور شدہ درختوں کو ہی کاٹا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے ملازمین ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور اگر کسی بھی معاملے میں محکمہ جنگلات کے ملازمین ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران بنگارا بلاک میں مبینہ نقصان میں ملوث افراد کے خلاف محکمہ جنگلات کے ملازمین کیطرف سے پہلے ہی کی گئی کسی قانونی کاروائی کے بارے بھی جانچ کی جائے گی اور کاروائی نہ کئے جانے کی صورت میں بلاک بنگارا میں تعینات ملازمین کے خلاف بھی ضابطے کی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام معاملے پر گہرائی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ملوث کو بخشا نہیں جائے گا اور ماضی کی طرح کاروائیاں کی جائینگی۔