عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات پر طنز کرتے ہوئے اس ملاقات کے وقت پر سوال اٹھایا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینے کے مطالبے کے لیے جنتر منتر پر احتجاج کی تیاری کر رہی ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں سجاد لون نے کہا کہ اگرچہ وہ ملک سے باہر ہیں، لیکن وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کی ملاقات کی خبر سننے کے بعد وہ ردِعمل دیے بغیر نہ رہ سکے۔ مجوزہ احتجاج کو “ایک مذاق” قرار دیتے ہوئے لون نے کہا کہ ہر چیز کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے اور ان کے مطابق وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم سے ملاقات احتجاج کے بعد کرنی چاہیے تھی، نہ کہ اس سے پہلے۔
انہوں نے لکھاکہ “جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کا یہ آغاز ہے۔ کیا مذاق ہے۔ وقت کی بھی ایک اہمیت ہوتی ہے۔ چاہے ہمیں یہ بتایا جائے کہ ملاقات کی تاریخ پہلے سے طے تھی، پھر بھی وزیر اعلیٰ کو احتجاج کے بعد ملاقات کرنی چاہیے تھی۔” سجاد لون نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے قبل پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اْس وقت بھی بعض رہنماوں نے آئینی تبدیلیوں اور بعد کی گرفتاریوں سے ایک یا دو دن پہلے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔انہوں نے کہاکہ”مجھے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے؟ انہوں نے 2019 میں بھی یہی کیا تھا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے ایک دن پہلے اسی وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ اور میرا خیال ہے کہ حراست کے بعد کس کو کہاں رکھا جائے گا، یہ بھی طے کیا گیا تھا۔” لون نے طنزیہ انداز میں وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں کے جذبات کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ”میں تصور کر سکتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ صاحب وزیر اعظم سے کہہ رہے ہوں گے: سر، ہمیں کچھ ڈرامہ بھی کرنا ہے۔