قیصر محمود عراقی
ہر انسان کامیابی کا خواہاں ہیں۔ دنیا میں عام طور پر کامیابی کے جو راستے اور اصول دکھائے جاتے ہیںان سب کا محور دنیا کی چند روزہ زندگی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے اور اگر مر بھی جائے تو کم از کم اس کا نام اور اس کے آثار ہمیشہ باقی رہیں۔ اسلام نے کامیابی کا جو معیار دیا ہے وہ فقط چند روزہ دنیوی زندگی تک محدود نہیں بلکہ انسان کی حقیر کامیابی دنیا میں بہترین زندگی گذارنے کے بعد آخرت کی ابدی زندگی کو سنوارنا ہے اور اس کامیابی کا بنیادی عنصر ایمان ہے۔ ایمان کے بغیر زندگی بے مقصد ، کھوکھلی اور فقط حیوانی بن جاتی ہے، بے ایمان شخص بے لگام گھوڑے کے مانند ہے۔
ایمان انسان کے دل میں امید کی کرن روشن رکھتا ہے، ایمان انسانی زندگی کو بامقصد بناتا ہے، ایمان انسان کو ناامیدی سے بچاتا ہے، ایمان انسان کی نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرتا ہے، ایمان انسان کو بد بینی سے بچاتا ہے، ایمان انسان کو ہر کام سے پہلے اس کے انجام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ایمان انسان کو تحمل مزاجی کے ساتھ مسائل وآلام سے نجات پانے کا راستہ فراہم کرتا ہے، ایمان اخلاقی آفتوں سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے، ایمان انسان کو احساس تنہائی سے امان دیتا ہے ، ایمان انسان کو ایک ایسی لامحدود ذات سے منسلک رکھتا ہے، جس کی قدرت ،جس کا علم، جس کی رحمت ، جس کا لطف وکرم ، جس کا فیض ، جس کی عطا اور جس کی بخشش کی کوئی حد نہیںاور جس کی الفت ومحبت کی کوئی انتہانہیں۔ اس ذات سے انسان جتنا مانگے اتنا ہی وہ ذات خوش ہوتی ہے اور وہ پھر اپنے بندوں پر ہزار ماں سے زیادہ شفیق ہے۔ وہ کمال مطلق ہے، وہ ترکیب سے خالی اور جسم وجسمانیت سے عاری ہے، وہ نہ زماں ومکاں کی حدود میں سمو سکتا ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ تمام موجودات اس کے محتاج ہیںاور وہ غنی محض ہے، کسی کی قوت بصارت میں اس کے جلوہ کمال کو دیکھنے کی طاقت نہیں، تمام صفات ثبوتیاکے حامل اور تمام صفات ساویہ سے پاک و منزاذات احدیت کا نام اللہ ہے، کائنات کے حسن وجمال کی تمام تر رعنائیوں کے مجموعے کا نام اللہ ہے، عشق ومحبت کے آخری زینے کا نام اللہ ہے، علم وقدرت وحیات کے سر چشمہ کا نام اللہ ہے، صدق وصفا کے چشمے کا نام اللہ ہے، فضل وکرم ، جود وسخااور کمال تکلم کے آخری درجے کا نام اللہ ہے۔ ارادہ واختیار کے اصل خزینے کا نام اللہ ہے، ازلی وابدی تصور کے بے انتہاسلسلے کا نام اللہ ہے، جس نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے خلق کیا، جس نے انسان کو عدم سے وجود میں لاکر اشرف المخلوقات قرار دیا، انسان کسی چیز کا مستحق نہیں تھا اسی نے انسان کی خاطر پوری کائنات کو خلق کیا۔ایمان سے انسان اپنے آپ کو ہر وقت اللہ کے زیر نظر پاتا ہے،وہ پریشان نہیں ہوتا کیونکہ جس کے ساتھ اللہ ہو ،اسے پریشانی کس بات کی، مومن انسان ہر اہم کام کیلئے بھرپور طریقے سے اپنی کوشش کرتا ہے پھر اس کے انجام کو خدا پر چھوڑ تا ہے۔ ایمان انسان کو تمام برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا خالق ہر عمل پر نظر رکھتا ہے، ایمان انسان کو ایک ذمہ دار انسان بناتا ہے ۔ باایمان شخص ظالم نہیں ہوتا کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ کل کو مجھے قہار ذات کو اپنے کئے کا مکمل حساب دینا ہے۔ ایمان انسان کو ہر اچھے کام میں پہل کرنے پر آمادہ کرتا ہے کیونکہ اس کا ایمان ہے میرا خدا میری ہر نیکی کے بدلے میں کم از کم دس گنا بدلہ ضرور چکائےگا۔ ایمان انسان کو خدا پسند ، متواضع ، علم دوست، مصلح ، بااخلاق، حق گو، امانت دار، باوفا،بناتا ہے اوراُسے ہر چیز مناسب قیمت پر بیچنے والا، باحیا، باپردہ، باغیرت ، بامروت ، با بصیرت اور با عفت بناتا ہے۔ ایمان اس جدید ترین ہتھیار کا نام ہے جس کے ذریعہ مغربی ثقافتی یلغار کا بہترین انداز سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، ایمان اس سیسہ پلائی دیوار کا نام ہے جو ہر قسم کی برائی کو سماج میں داخل ہونے سے روکتا ہے، ایمان اس ناقابل تسخیر طاقت کا نام ہے جس کے ذریعے ظالموں، جابروں، غاصبوں، ڈکٹیٹروں، سرکشوں، یہودیوں، کافروں اور ملک وملت کے دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ تمام برے افعال سے توبہ کریںاور ایمانداری سے ہر وہ کام سے انجام دینے کی کوشش کریں۔ اگر آج بھی امت مسلمہ خوف خدا کو دلوںمیں جگہ دے اور ایمانی تقاضوں کو پورا کرے تو اللہ تعالیٰ ہر میدان میں مسلمانوں کی مدد کریگا، ورنہ مغربی طاقتوں کی غلامی کی زنجیریںدن بہ دن مضبوط ہوتی جائیںگی اور دشمنوں کے ظلم وستم بڑھتے ہی جائیںگے ۔ اگر کوئی شخص باایمان ہونے کے باوجود کامیابی وکامرانی اس کے قدم نہ چومے تو اس میں ایمان کا کوئی قصور نہیں بلکہ اسی شخص کا ایمان راسخ نہ ہونا اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل نہ کرنا ہے۔
رابطہ۔6291697668