سرینگر//وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے سروشکھشاں ابھیان کے تحت کام کر رہے اساتذہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کی التوا میں پڑی تنخواہوں کو ادا کرنے کی خاطر فوری طور سے ایک ارب 43کروڑ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔ وزیرا علیٰ نے یہ ہدایات اس حوالے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران دیں۔وزیر تعلیم چودھری ذوالفقار ، وزیر خزانہ سید محمد الطاف بخاری، اعلیٰ تعلیم کے وزیر مولوی عمرا ن رضا انصاری، چیف سیکرٹری بی بی وِیاس ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل اور سیکرٹری تعلیم فاروق احمد شاہ اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے ایس ایس اے اساتذہ معاملات پر غور رکرنے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مربوط طریقے پر حل کرنے کی خاطر چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایات دیں۔ کمیٹی کے ارکان میں خزانہ او رمنصوبہ بندی اور تعلیم محکموں کے انتظامی سیکرٹری شامل ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر ایس ایس اے ممبر سیکرٹری ہوں گے۔محبوبہ مفتی نے محکمہ خزانہ سے کہا کہ وہ مزید وسائل جٹانے کے امکانات تلاش کریں ایس ایس اے اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ راحت دی جاسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ ہدایت بھی دی کہ چیف سیکریٹری کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ایس ایس اے اساتذہ کے دیگر مسائل کاجائزہ لے گی اور ان مطالبات کو مقررہ مدت میں حل کرنے کی سفارش کرے گی ۔ اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایڈمنسٹریٹر سیکریٹریزفائنانس، پلاننگ اورایجوکیشن ہیں جبکہ ڈائریکٹر ایس ایس اے کو کمیٹی کا ممبر سیکریٹری رکھاگیاہے۔وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ پر زور دیاکہ ایس ایس اے اساتذہ کے مسائل حل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کئے جائیں۔معلوم رہے کہ ایس ایس اے اساتذہ پچھلے ایک ماہ سے احتجاج پرتھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کی تنخواہیں ڈی لنک کرکے مرکزی بجٹ سے ریاستی بجٹ میں منتقل کی جائیں۔ 9جون کو اساتذہ نے ریاست کے 22 اضلاع میں احتجاج کیا اور یہ مطالبہ بھی رکھاکہ ان کے حق میں ساتویں تنخواہ کمیشن کی قسط واگزار کی جائے ۔اس دوران اساتذہ کی تمام تنظیمیں بھی ان کی حمایت میں سامنے آئیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا نام ٹیچر جوائنٹ ایکشن کمیٹی رکھا گیا تھا جس کے تحت احتجاج جاری رکھنے کا پروگرام بھی مرتب کیا گیا ۔اساتذہ نے دھمکی دی تھی کہ و ہ عید کے تہوار کو سیاہ دن کے طور پر منائیںگے ۔ایجک صدر عبدالقیوم وانی نے حکومت کوانتباہ جاری کیاتھاکہ اگر اساتذہ کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ریاست گیر احتجاج کیاجائے گا۔اساتذہ کے احتجاج کے پیش نظر سرکار بھی حرکت میں آئی اور اور ریاستی وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔اساتذہ کا کہنا تھا کہ انہیں وقت پر تنخواہ نہیں ملتی جبکہ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ اْن کے بچے دانے دانے کے محتاج ہو جاتے ہیں۔