پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر حکومت کی لاپرواہی سے گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈائلیسزکے اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں کیونکہ جموں و کشمیر میں آیوشمان بھارت سکیم کے تحت مفت ڈائلیسز فراہم کرنے والے 55ڈائلیسز سینٹروں کے معاہدوں میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔جموں و کشمیر میں روزانہ 55 سینٹروں میں 1500مریضوں کا ڈائلیسز کیا جاتا ہے۔لیکن حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے پچھلے19دنوں کے دوران28500ہزار سے زائد مریضوں کے ڈائلیسز نہیں ہو پائے ہیں۔ حکومت جہاںمعاہدے کی تجدید کرنا بھول چکی ہے ، وہیں حکومت نے تمام جراحیوں اور ڈائلیسز سینٹروں کے فیس میں 10فیصد کمی کرکے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جموں وکشمیر پرائیویٹ ہسپتال اور ڈائلیسز سینٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سجاد احمد نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا ’’ ہمارا حکومت کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ ہوتا ہے جن میں حکومت ، انشورنس کمپنی اور نجی ہسپتال شامل ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سجاد نے کہا ’’ اس سے پہلے حکومت ، Iffko Tokioاور نجی ہسپتالوں اور ڈائلیسز سینٹروں کے درمیان 14مارچ 2025تک معاہدہ ہواتھا لیکن انشورنس کمپنی ایک سال پہلے ہی معاہدہ چھوڑ کرچلی گئی ۔سیکریٹری جنرل نے بتایا ’’ انہوں نے آیوشمان بھارت سکیم کے بھروسے کی بنیاد پر کارروائی چلائی اور انشورنس کمپنی کے خلاف قانونی کاروائی میں سرکار کا ساتھ دیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 14مارچ 2025سے 2ماہ قبل سرکار کو ٹینڈر جاری کرنے تھے لیکن حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے معاہدہ ختم ہوگیا۔ ڈاکٹر سجاد کا کہناتھا کہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے، لہٰذا پرائیویٹ ہسپتال اس بات کے پابند نہیں کہ سکیم کو چلائیں۔ انہوں نے کہا ’’حکومت اب انشورنس کمپنیوں سے بات کررہی ہے، یہ سلسلہ 2ماہ قبل شروع کرنا تھا‘‘۔ ڈاکٹر سجاد نے کہا ’’ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ ڈائلیسز بند کردیئے گئے ہیں بلکہ لوگوں کی ڈائلیسز ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مالی طور پر جومستحکم ہیں، ان سے پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔ سجاد نے بتایا کہ تمام دیگر ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں جراحیوں اور ڈا ئلیسز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن جموں و کشمیر حکومت نے یہاں جراحیوں اور ڈائلیسز کی قیمتوں میں 10فیصد کمی کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے پہلے اس کیلئے 2000روپے دیئے جاتے تھے جس کو کم کرکے 1600 روپے کردیا گیا اور اب اس میں اضافہ کے بجائے مزید کمی کرکے 1350روپے کردیا گیا ہے جبکہ ابھی بھی حکومت کے پاس ہمارے50فیصد رقوم باقی ہے۔ ڈاکٹر سجاد نے بتایا کہ آیوشمان بھارت سکیم کے تحت حکومت نے صرف 185کروڑ روپے دئے ہیں جبکہ 170کروڑ روپے ابھی بھی حکومت نے ادا نہیں کئے ہیں۔آیوشمان بھارت کی ترجمان نورین راجہ نے بتایا کہ جوآیوشمان بھارت سے رابطہ کررہے ہیں ، ان کا سرکاری اسپتالوں میں ڈائلیسز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔