کریری (پٹن)//معروف صحافی اورانگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیرکے مدیر سید شجاعت بخاری کو اپنے آبائی گائوں کریری پٹن میں جمعہ کو سپرد خاک کیا گیا۔صحافی برادری ، مین اسٹریم اور مزاحمتی جماعتوں سے وابستہ لیڈران ،انتظامیہ اور پولیس حکام کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شدید بارش کے باوجود نماز جنازہ میں شرکت کی ۔مرحوم کی گاڑی پرجمعرات کی شام پریس کالونی لالچوک میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ اپنے دو حفاظتی اہلکاروں کے ہمراہ لقمہ اجل بن گئے۔ان کی ہلاکت کی خبر نے مزاحمتی ،مذہبی ،سیاسی ،سماجی ،ادبی اور عوامی حلقوںسمیت صحافتی برادری میںسوگ کی فضا قائم کردی ۔شجاعت بخاری کے آبائی گائوں کریری پٹن میںجمعہ کی صبح سے ہی لوگوں کا تانتا بندھا رہا ۔پٹن سے کریر ی جانے والی سڑک پرگاڑیو ں کا نہ تھمنے والا رش دن بھر جاری رہا۔ ہر سڑک اور ہرگلی کوچے سے خواتین و حضرات مرحوم کے آبائی گھر کی طرف رواں دواں نظرآئے ۔یہاں پہنچنے والے ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں اورہر کوئی افسوس کا اظہار کررہا تھا۔جہاں خواتین سینہ کوبی کرتی نظر آئیں وہیں صحافی برادری کے ساتھ تعلق رکھنے والے افراد کے چہروں پر مایوسی جھلک رہی تھی اور مرحوم کے ساتھ گزارے گئے وقت کو یاد کررہے تھے۔الغرض سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد جمعہ کی صبح مرحوم کو ابدی سفر پر روانہ کرنے کیلئے کریری پہنچے ۔ قصبے میں جمعرات کی شام سے ہی دوکانیں بند ہوگئی تھیں۔ قصبے میں ہر سو ماتمی ماحول چھایا ہوا ہے۔ موصوف کی نماز جنازہ معروف بزرگ حاجی سید محمد مراد بخاریؒکے مزار کے متصل جنازہ گاہ میں 11بجے صبح اداکی گئی ،جس کی پیشوائی مقامی امام مولوی سید شریف الحق بخاری نے انجام دی ۔جنازہ گاہ تاحد نگاہ نماز جنازہ میں شریک افراد سے بھرا نظر آرہا تھا۔نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کو آبائی قبرستان میں سپردِ لحدکیاگیا۔اس دوران ہرچہرہ غم سے نڈھال اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔نماز جنازہ میں جن اہم شخصیات نے شرکت کی اُن میں سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ،وزیر تعمیرات نعیم اختر،وزیر برائے امور صارفین و عوامی تقسیم کاری اشرف میر،وزیربرائے ریلیف اور بازآباد کاری جاوید مصطفی میر، سابق وزیر عبدالحق خان ،سینئر کانگریس لیڈر سیف الدین سوز،سی پی آئی (ایم)لیڈر محمد یوسف تاریگامی ،سابق وزیر غلام حسن میر،سابق وزیر تاج محی الدین ،چیف جسٹس (ر)منصور احمد میر ،ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر اقبال گنائی،آئی جی پی سی آئی ڈی عبدالغنی میر،اے ڈی جی پی افہاد المجتبیٰ اورمزاحمتی لیڈران محمد یاسین ملک اور ظفراکبر بٹ کے علاوہ ووئس آف وکٹمز کے کوارڈی نیٹر عبدالرئوف خان شامل ہیں۔ا س دوران پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر،وزیر برائے سماجی بہبود سجاد غنی لون،وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و کھیل کود عمران رضا انصاری ،سیاحت کے وزیر تصدق مفتی ،انجینئر رشید،ڈویژنل کمشنر بصیر احمد خان ،پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید اور آئی جی کشمیر ایس پی پانی ،سینئر پولیس آفیسر منیر احمد خان نے کریری پہنچ کر سوگوار کنبے سے تعزیت پرسی کی اورغمزدگان کی ڈھارس بندھائی ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق جنازے میں 10ہزارکے قریب لوگ شریک ہوئے ۔ شجاعت بخاری کی ہلاکت کی ریاست اور بیرون ریاست ہی نہیں بلکہ بین لاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے اور انہیں ایک معتبر صحافی کی حیثیت سے یاد کرکے خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے ۔