ماہِ اگست کے دوران جموں و کشمیرکے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال نے جہاں صوبہ جموںمیں تباہی مچادی ،وہیںکشمیر کے بھی کچھ علاقوں کو غرق ِ آب کیاجبکہ بادل پھٹنے کے کارن پتھریلی سیلابی ریلوں ،زمینیں کھسکنے کی وارداتوں ، پسیاں گِر آنےاور سڑکیں ڈھہ جانے کی آفتوںسے جوہولناک صورت حال پیدا ہوئی،وہ لرزہ خیز اور درد ناک ہے۔ یہ بات برحق ہے کہ زمینی اور آسمانی آفتوں کی تاریخ انسانی وجود سےشروع ہوتی ہے،بے شک ان میں انسانی ہاتھ کا کوئی عملِ دخل ہو یا نہ ہو، یہ آفات آندھی،طوفان ،سیلاب ،زلزلے ،وبائی بیماری ، خشک سالی اور آگ زنی کی شکل میں انسانی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہیں یا پھرانہیں بڑے پیمانے پرجانی و مالی نقصانات سے دوچارکرکے آلام و مصائب میں مبتلا کرتی ہیں۔اِن قدرتی آفتوں سے انسانی زندگی تلپٹ ہوجاتی ہے ، زبانیں گنگ رہ جاتی ہیں،آبادیاںنابود ہوجاتی ہیں،شادو آبادلوگوں کے آشیانے کھنڈربن جاتے ہیں،سارانظا م تہس نہس ہوجاتا ہے، زندگی مفلوج ہوجاتی ہےاوربیشترلوگوں کے لئےزندگی کا نظام بحال کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتا ہے۔
اگرچہ جموں و کشمیرکے مختلف پہاڑی علاقوں میںموسم سرما کے آغازسے بادل پھٹنے ،چٹانیں گر آنے ،زمینیں کھسکنے ،پسیاں گرنے اور سڑکیں ڈھہ جانےکا سلسلہ چلتا رہتا ہے ، جن میں بعض اوقات جانی و مالی نقصان ہوتا رہتا ہے،لیکن اس سال ماہِ اگست کے دوران ان زمینی و آسمانی آفتوں نے جو قہر برپا کیا ،وہ انتہائی تباہ کُن ،المناک اور ناقابل فراموش ہے۔تا حال ان آفات کی تباہ کاریوں کی خبریں روزانہ اخبارت کی زینت بن رہی ہیں ،جن میں ہونے والے انسانی جانوں کے اتلاف ، ملبے میںدبے ہوئے انسانوں کی تلاش اور مالی نقصانات کی لرز ہ براندام تفصیلات درج ہوتی ہیں،جن سےیہ باتیں عیاں ہوجاتی ہیںکہ متاثرہ لوگوں کی کیا حالت ِ زار ہے۔بیشتر متاثرہ لوگوں کی نظام ِزندگی اس قدر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے کہ اب اُنہیں بے کسی اور بے بسی کے عالم میں جینے کی آرزو تک نہیںہے۔کل تک جوخوشحال زندگی اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کے ساتھ گزرا رہے تھے، وہ آج گدّابن چکے ہیں۔ظاہر ہےکہ کسی کے عزیزرشتہ دار ہمیشہ کے لئے جُدا ہوجائیں اور زندگی بھر کی جمع پونجی ،مال و اسباب اور زندگی گذارنے کا ٹھکانہ تک چھِن جائے تو پھر جینے کے لئے باقی کیا رہ جاتا ہے۔
تاہم اس انتہائی سنگین صورتِ حال میں جہاں حکومت ان کی بحالی کے لئے ہر ممکن کوششیں کررہی ہیں ،وہیں انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق بہت سارے لوگ نوع ِ انسانی کی مدد کے لئے پیش پیش رہتے ہیں اور انسانیت کے ناطے وقتی طور پر متاثرین کے ساتھی اور مددگاربنتے ہیں،اُن کی ہمت بڑھاتے ہیں ،انہیں حوصلہ دیتے ہیں اور کسی حد تک ان کی ضروریاتِ زندگی مہیا کرتے ہیں۔جبکہ حکومتی ادارے جن میں پولیس ،فائر سروس عملہ ،فلڈ کنٹرول محکمہ ،فوجی عملے بھی ان موقعوں اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتےہیں،ساتھ ہی بعض رضاکار تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔گویا ہرادارہ آفت زدہ گان کو راحت پہنچانے کی حتی المکان کوشش کرتارہتا ہے ،مگر کچھ دن گذر جانے کے بعدیہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہےاور اس طرح کی امداد سے متاثرین کی زندگی بحال نہیں ہوجاتی ہے۔یہ وہ سوال ہے،جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہاں! کسی بھی قدرتی آفت کے شکار لوگوں کی زندگی بحال کرنےکی اہم ذمہ داری حکومت کی ہی ہوتی ہےتاکہ متاثرین جسم و جان کا رشتہ برقرا ر رکھ سکیں اوراُن کی زندگی کی بحالی کے لئےایسا سب کچھ کرے،جس سے وہ اپنے معاشرے میںپہلے جیسے کی طرح زندگی کا گذر بسر کرسکیں،کیونکہ اسی مقصد کے تحت حکومت،حکومت کہلاتی ہے ۔بے شک حکومت نے بھی اپنے انتظامی شعبوں میں ایک مخصوص شعبہ بھی قائم کیا ہوتا ہے جو آفت زدہ لوگوں کی دوبارہ بحالی کے کام کاج کے لئے مامور ہوتی ہے۔ لیکن جہاں تک ہم دیکھنےچلے آرہے ہیں کہ آج تک کسی بھی آفتِ قدرت کے متاثرین کے لئے حکومتوں کی طرف سے جو بھی ریلیف منظور ہوتی ہے ،اُسے متاثرین تک پہنچنے میں ایک لمبا عرصہ لگ جاتا ہے اورریلیف کے حصول کےلئےمتعلقہ دفتروںکے چکر لگانے میں متاثرین کے جوتے گھِس جاتے ہیںاور اُنہیں مقررہ منظور شدہ ریلیف قسطوں میں مل جاتی ہے،جس کے نتیجے میں متاثرین کے اہل ِخانہ کی زندگی بَد سے بدتر ہوجاتی ہے ۔اب جبکہ موسم سرما کی آمد آمد ہےتو ضرورت اس بات کی ہےکہ موجودہ یوٹی حکومت کےتمام متعلقہ انتظامی ادارےبلا تاخیر اور بر وقت متاثرین کی بحالی کی ہر ممکن کوشش کریںتاکہ متاثرین کسی حد تک راحت کا سانس لے پاسکیں اور اپنی زندگی دوبارہ بحال کرنے کے قابل بن سکیں۔