شوپیان//شوپیان میں 9سال قبل دو خواتین کی فورسز کی طرف سے مبینہ عصمت دری و قتل کے معاملے کے خلاف مزاحمتی قیادت کی کال پر پورے ضلع میں مکمل ہڑتال رہی۔جس دوران مقتول خواتین کے رشتہ داروں نے پرتاپ پارک سرینگر میں احتجاج کیا۔ ضلع شوپیان میں تمام دکانات اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ غائب رہا۔تاہم نجی گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ہڑتال کی وجہ سے بازاروں اور سڑکوں پر مجموعی طور سناٹا چھایا رہا ۔اندرون قصبہ میں پولیس یا فورسز کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی تھی البتہ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔اس دوران لوگوں کی خاصی تعداد نے آسیہ اور نیلوفر کے مقبرے پر جاکر فاتحہ خوانی کی۔واضح رہے کہ 29 مئی 2009 کو آسیہ اور نیلوفر میوہ باغ میں جانے کے لیے اپنے گھر سے نکلیںتھی اور اسکے بعد واپس نہیں لوٹیں۔دوسرے دن نالہ رمبی آرہ سے دونوں کی مشتبہ حالت میں نعشیں برآمد ہوئیں۔ جسکے بعد ضلع شوپیان میں مسلسل 47 روز تک احتجاجی جلوس اور مظاہرے ہوتے رہے۔