زندگی سکون اور خوف کا نام ہے۔ ایک لمحہ اگر خوشی کا ہے، تو دوسرا غم اور خوف کا ہے۔ یہ زندگی ان ہی دو چیزوں کے درمیان گزرتی ہے۔ انسان اپنی ساری قوت ان طریقوں پر صرف کرتا ہےتاکہ خوشی اس سے کھبی منہ نہ موڑے۔ مگر اُس موقع پر انسان گھٹن محسوس کرتا ہے، جب صرف غم کے بادل برستے رہتے ہیں اور نیلاآسمان دیکھنے کا کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا۔ غموں کا مستقل رہنااور خوشی کاوقفہ محدود رہنا، اس پر بہت سارے مفکروں، اسکالروں، مذہبی رہنماؤں، سائنسدانوں وغیرہ نے کافی غور و فکر کیا ہے۔ ہر کسی نے زمانے کے لحاظ سے، وقت کے سیاسی، معاشی ، سماجی حالات یاکئی دیگر معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی آرا پیش توکیں، مگر حتمی جواب آج تک کسی کے ہاتھ نہیں لگا۔ گویااس معاملے میں انسان جتنی گہرائی میں چلا جاتا ہے، اُتنا ہی وہ دلدل میں پھنستاجاتارہا ہے۔ مگر اسلام نے اس صورتحال میں انسان کی معاونت کی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ اصل امن اور خوشی تب ہی حاصل ہوسکتی ہے،جب ایک انسان خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ اس کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا جائےگا، وہ آخر کار تباہی کی طرف ہی لے جائے گا۔ اسلام نے وہ وجوہات بھی واضح کردیئے ہیں،جن سے انسان غموں اور پریشانیوں میں مسلسل گرفتار رہتا ہے۔ اب ہم مندرجہ ذیل سطروں میں ان وجوہات کا کچھ ذکر کرتے ہیں، جن کی وجہ سے آج ہم پر خوف کی حکومت ہے۔
پہلا ہے خوف ِالٰہی کی فراموشی: آج کل ہر سو یہی دکھائی دیتا ہے انسان نے انسانیت سے اپنا ناطہ توڑ دیا ہے۔اُس کی زندگی میں خدا ، یا اللہ ، یا اُس ذات کا خوف ختم ہوچکا ہے، جو اس کائنات کا موجد اور مالک و خالق ہے،انسان اُ س مالک ِ کائنات کو بھول چکا ہے،جس کے منشا کے مطابق ہی دنیا میں انسانی وجود قائم ہے۔مالک ِ کائنات کا خوف ختم ہونے سے ہی انسان کودنیاوی خوف نے گھیر کر رکھ دیاہے۔ ساری دنیا کا مالک ہم سے چاہتا کہ تم سب مجھ سے ڈریں، پھر تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر ہم نے اس کے برعکس کیا ہے۔ مال کے کم ہونے کا ڈر، بیماریوں کا ڈر، نقصان ہونے کا ڈر، اولاد کے کھونے کا ڈر، وغیرہ نے ہمیں خوف ِ الٰہی سے دور کر کےرکھ دیا ہے اور ہماری حالت سدھرنے کے بجائےاُلجھتی جارہی ہے۔ آج کسی بھی انسان کو دیکھو۔جس کے پاس سب کچھ ہے،وہ بھی پریشان ہے اور جس کے پاس کچھ بھی نہیں وہ بھی پشیمان ہے۔گویا یہاں کوئی بھی خوشحال اور پُرسکون نہیں ہے۔کوئی حال ِ پریشان ہے تو کوئی مال ِ پریشان ہے۔ اس طرح کوئی امیر ہے یا کوئی غریب۔سب کی صورت ِ حال ایک جیسی ہے۔ وجہ دونوں کی ایک ہی ہے،اور وہ ہے اللہ کے خوف کے بجائےدوسری چیزوں کی بے پناہ چاہت ،محبت اور لذت۔
دوسرا ہے لالچ : ہم جو بھی کام کرتے ہیں، اس میں لالچ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہاں! کسی حد تک یہ صحیح ہے کہ انسان فائدے کا سودا کرے۔ مگر انسانیت کے نام پر بھی ہم لالچ کو بروئے کار لاتے ہیں۔ خدا کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا،اب ہمارے یہاں نہیں پایا جاتا ہے۔ وہ اقدار جن کو پوری دنیا میں انسانیت کے نام سے جانا جاتا تھا، وہ بھی اب فرسودہ قرار دے کر بد خواہی کی نذر ہوچکے ہیں۔ جس کا براہ راست اثر اِس شکل میں نکلا ہے کہ ہمارے دلوں اور اذہان میں ایک انجانےخوف نے جگہ لے لی ہے۔ ہر وقت دل تیزی سے دھڑکتے ہیں۔ اذہان میں خلل آگیاہےاور نہ صرف دھوپ چھاؤں میں تبدیلی آچکی ہے بلکہ رات دن میں اور صبح و شام میں بھی فرق محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا ہے منافقانہ رویہ : سو چہرے والے لوگ، آج ہر جگہ ملتے ہیں۔ اپنی بارویں جماعت کی انگریزی کتاب میں ہم نے ایک نظم پڑھی تھی، جس میں منافقت کے بارے میں بات کہی گئی تھی۔ شاعر کہنا چاہتا تھا کہ کیسے آج کے زمانے میں ایک اعلیٰ پایہ کا انسان چہرے بدلتا رہتا ہے تاکہ وہ سب کچھ حاصل کرسکے جو وہ چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ خوف کی شکل میں نکلا ہے۔ موقع کے لحاظ سے انسان کےبار بارتبدیل ہونے سےانسان شیطانیت کے وصف پاچکا ہے،جس نے اُسے اصلیت سے دور کرکے مصنوعی چیزوں کا خوگر بنا کر خوف کی وادی میں دھکیل دیا ہے۔
چوتھا ہے دین سے دوری : ایک اُمت کے بجائے ہم نسلی بنیادوں پر، زبان کی بنیادوں پر، زمین کی بنیادوں پر یا کسی دوسرے معاملے پر بٹ گئی ہے۔ ایک عظیم مقصد کے بجائے ہم نے آپس میں ہی ایک دوسرے کو مارنا اور گرانا شروع کیا۔ اس صورت ِحال نے ہمیں ذہنی اور جسمانی تذبذب میں مبتلا کردیا ہے۔ آئے دن ہمیں یہ فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ کس طرح ہم دوسرے لوگوں کو نیچا دکھائے۔ اپنے مسلک کا کیسے دفاع کیا جائے۔ لڑائی کرنے کے کون کون سے ذرائع اختیار کئے جائیں۔ جب ساری طاقت انہی فصول کاموں میں صرف ہوگئ، تو خدا کے یہاں سے بھی فیصلے آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اُس نے ہمیں ایک اَن دیکھے خوف میں مبتلا کرکے، اگر یہ لکھنا برا نہ ہو، اُس نے ہمیں رسوا کردیا ہے۔ کروڑوں ہوکر بھی، ہمارا خوف پوری دنیا سے نکل گیا ہے اور دوسروں کا خوف ہمارے دلوں میں رچ بس گیا ہے۔
پانچواں ہے رحم و کرم کا فقدان : عرش والا کہتا ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو، میں آپ پر اپنے رحمت کے دروازے کھولوں گا۔ تم لوگوں سے خوش لہجے سے پیش آو، میں تمہارے زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا۔ مگر ہم نے اس کے برعکس کام انجام دیئے۔ لوگوں پر ظلم کرنا۔ ان کو ناحق جیل میں بھر دینا، ان کو مقدمات میں پھنسانا، حکومتی چھاپے ڈلوانا، وغیرہ یہ سارے کارنامے ہم نے ہی انجام دئے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر خوف کی شکل میں نکلا۔ اب اگر خوشی چاہتے بھی ہیں، تو کس طرح ، کب اور کیسے؟
آخری ہے شیطان کی پیروی : ہم سے کہا گیا تھا کہ ابلیس کی پیروی باعث عذاب ہے۔ اس کا طریقہ کار خدا کی راہ سے جداگانہ ہے۔ اس کی پیروی میں سکون قلب ملنا ناممکن ہے۔ خوشی سے رشتہ کٹ جاتا ہے۔ شیطان انسان کو اُلجھتا ہے، جس کی وجہ کسی مخصوص وقت کے لئے ایک انسان خوشی اور مسرت تو محسوس کرتا ہے، مگر آخر کار اس کو غموں اور ڈر کا ایسا حملہ ہوجاتا ہے کہ وہ اس سے باہر آنے کی بھی کوشش کرے، تب بھی نہیں نکل سکتا ہے۔
انسان تب ہی خوف سے چھٹکارا پا سکتا ہے جب وہ خدا کی دی ہوئی زندگی کو اُس کے کاموں میں صرف کرے۔ اِس کے بغیر کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا تب ہی پورا حق ادا ہوسکتا ہے، جب ہم اس کی کہی ہوئی باتوں کو عمل میں لائیں۔ اس کے علاوہ اس کی مخلوق سے محبت کرنا ایک انتہائی ضروری کام ہے۔ تفرقہ سے پرہیز کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کو جوڑنے کی کوشش کرنا، اسی میں امن اور سکون کا راز چھپا ہے۔ اور آخری بات کہ تعصب سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے۔ نئے زمانے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی چلنا ہے۔ آیئے ہم self-introspection کو اپنا شیوہ بنائیں۔ Pablo Neruda کی طرح ایک بار ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔خوف کا عالم کافور ہوجائے گا۔
(مدرس الھدیٰ کوچنگ سنٹر مصطفیٰ آباد، زینہ کوٹ سرینگر) ربطہ۔7889346763