سرینگر//انتخابات کے روز شہری کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے فوجی افسر میجر للت گگوئے کو سرینگر کے ایک ہوٹل میں لوگوں نے ایک کمسن دوشیزہ کے ساتھ مشکوک حالت میں دبوچ کر پولیس کے حوالے کیا،تاہم پولیس نے بعد میں میجر کا بیان قلمبند کر کے اسے متعلقہ یونٹ کے سپرد کیا۔آئی جی پولیس نے اس معاملے کی چھان بین کا اعلان کرتے ہوئے ایس پی نارتھ کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے۔ بڈگام کے ژھل براس خانصاحب علاقے میں گزشتہ برس ضمنی پارلیمانی انتخابات کے دوران فاروق احمد ڈار نامی ایک شہری کو گاڑی کے آگے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے فوجی میجر کو سرینگر کے کہنہ کھن علاقے میں ایک ہوٹل میں اس وقت لوگوں نے دبوچ لیا ،جب انہیں مشکوک حالت میں ایک کشمیری کمسن دوشیزہ کے ساتھ دیکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق بدھ قریب11 بجے ہوٹل میں موجود عملے اور دیگر لوگوں و میجر اور اس کے کشمیری ساتھی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔میجر نے ہوٹل میں آن لائن بکنگ کرائی تھی لیکن جب وہ آیا تو اسکے ساتھ ایک کشمیری دوشیزہ تھی۔ ہوٹل عملے نے کشمیری دوشیزہ کو ہوٹل میں رہنے کی اجازت نہیں دی جس پر میجر اور عملے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔جس کے بعد پولیس کو مطلع کیا گیا،جنہوں نے میجر گگولئے،انکے ایک کشمیری ساتھی (ڈرائیور) اور مبینہ کمسن دوشیزہ کو حراست میں لیا گیا۔ہوٹل عملے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہوٹل میں کشمیری لڑکیوں کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے ضابطہ مرتب کر رکھا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا
دن کے11بجے کے قریب میجر گگوئے ایک دوشیزہ اورڈرائیور کے ہمراہ ہوٹل گرینڈ ممتا کہنہ کھن ڈلگیٹ پہنچے۔ مذکورہ ہوٹل میں پہلے ہی23مئی کو آن لائن طریقے پر ایک کمرے کو میجر گگوئے ساکن آسام کے نام پر بک کیا گیا تھا۔ ہوٹل کے منیجر مدثر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جوں ہی مذکورہ فوجی افسر ہوٹل میں داخل ہوکر استقبالیہ پر پہنچا،تو انہیں وہاں پر موجود منیجر نے پوچھا کہ آپ کتنے لوگ ہیں،جو کہ ہوٹل کی پالیسی ہے،کیونکہ دو سے زیادہ افراد کی صورت میں اضافی چارجز یا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔مدثر نے بتایا کہ بعد میں میجر(اس وقت معلوم نہ تھا کہ وہ للت گگوئے ہے) سے شناختی کارڑ طلب کیاگیا،اور جب انہوں نے شناختی کارڑ( آدھار کارڑ) فراہم کئے تو اس میں نام سے ایک غیر مسلم ظاہر ہوا،اور ایک مقامی مسلم دوشیزہ۔مدثر کا کہنا تھا کہ انہیں غیر ریاستی مہمان کے ساتھ مقامی دوشیزہ ہونے پر شک و شبہات لاحق ہوئے،جس کے بعد انہوں نے کمرہ دینے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ میجر، جو کہ سیول وردی میں ملبوث تھا،اور ایک سیاح لگ رہا تھا،نے کچھ اصرار کیا،تاہم ہوٹل پولیسی کی بناء پر انہوں نے کمرہ نہیں دیا، جس کے بعد وہ باہر چلے گئے۔ہوٹل کے منیجر نے بتایا،جب وہ باہر نکلے تو انکے ہمراہ ایک کشمیری نوجوان نے اسے بتایا کہ ہوٹل عملہ نے کمرہ دینے سے نکار کیا،جس کے بعد وہ آگ بگولہ ہوا،اور زبردست بحث و تکرار ہوئی،اور اس میں دیگر ہوٹل عملہ،اور ڈرائیور جمع ہوئے،اور طرفین میں زبردست مزاحمت ہوئی،اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی مدثر نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے پولیس کو مطلع کیا،اور پولیس نے میجر للت گگوئے،مذکورہ کشمیری نوجوان اور دوشیزہ کو پولیس تھانہ خانیار پہنچایا۔
پولیس و ضاحت
پولیس نے واقعہ سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو11بجے دن ہوٹل گرینڈ ممتا سے فون کال موصول ہوئی،کہ ہوٹل میں ہاتھا پائی ہوئی۔ پولیس بیان کے مطابق اس کے بعد ایک پولیس پارٹی کو ہوٹل کی طرف روانہ کیا گیا ،جس کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ایک خاتون(نام مخفی) اور بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سمیر،کسی شخص کو دیکھنے کو ہوٹل میں آئے تھے،تاہم ہوٹل کے استقبالیہ نے انہیں مذکورہ شخص سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔اس دوران پولیس پارٹی بھی ہوٹل پہنچ گئی اور تمام لوگوں کو پولیس تھانہ پہنچایا۔بیان کے مطابق یہ معلوم ہوا کہ خاتون ایک فوجی افسر سے ملنے آئی تھی۔پولیس بیان کے مطابق فوجی افسر کا بیان قلمبند کر کے انہیں متعلقہ یونٹ کے سپرد کیا گیا،اور خاتون کا بیان بھی قلمبند کرکے معاملے سے متعلق تحقیقات شروع کی گئی ہے۔
تحقیقات کا اعلان
کشمیر پولیس چیف ایس پی پانی نے معاملے کی نسبت تحقیقات کے احکامات صادر کرتے ہوئے ایک ٹیم ایس پی نارتھ زون سرینگر کی سربراہی میں تشکیل دی ہے۔ آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی نے میڈیا کو بتایا کہ میجر گگوئی کے متعلقہ یونٹ کو اس حوالے سے مطلع کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ دوشیزہ کمسن نہیں ہے کیوں کہ اُس سے جو کاغذات برآمد ہوئے ہیں اُس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لڑکی نابالغ نہیں ہے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ فوج بھی اس معاملے سے متعلق متوقع طور پر کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کرسکتی ہے کیوں کہ مذکورہ فوجی افسر واقعہ پیش آنے کے وقت ڈیوٹی پر حاضردکھایا گیاہے۔
احتجاج
بشری حقوق کارکن محمد احسن اونتو بھی اس دوران خانیار پولیس تھانہ پہنچے،جبکہ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہیں تھانہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ پہلے ہی میجر گگوئے کے خلاف ریاستی ہائی کورٹ اور انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں انہوں نے5عرضیاں دائر کی ہیں۔اونتو نے الیکٹرانک چینلوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب میجر گگوئے نے فاروق احمد ڈار کو انسانی ڈھال کے بطور گاڑی کے آگے باندھا،تو ان چینلوں نے اس کو ہیرو بنادیا،اور فوج نے خصوصی انعام سے بھی نوازا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی کشمیری عوام نے کہا تھا کہ میجر گگوئے ایک پیشہ وارانہ افسرنہیں بلکہ’’غلط کردار‘‘ کا ایک شخص ہیں۔