یواین آئی
واشنگٹن// عدالت نے امریکی صدر کے عائد کردہ زیادہ تر ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے ۔جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ امریکہ کو تباہ کردے گا ۔غیرملکی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اپیل کورٹ نے صدر ٹرمپ کے زیادہ تر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس فیصلے سے صدر کی معاشی پالیسی کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ امریکی حکومت فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرسکتی ہے، سپریم کورٹ میں اپیل کا موقع دینے کے لیے فیصلے کے نفاذ میں تاخیر کا کہا گیا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو اپیل دائر کرنے تک مذکورہ ٹیرف 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کی شدید مخالفت اور تنقید کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی جانبدار عدالت کا فیصلہ قرار دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اگر یہ ٹیرف ختم ہوگئے تو یہ ملک کے لیے ایک مکمل تباہی کے مترادف ہوگا، تمام ٹیرف اب بھی نافذ ہیں۔صدرٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف پر فیصلہ سنانے والی اپیل کورٹ غلط اور جانبدار ہے، سپریم کورٹ کی مدد سے ٹیرف کو قوم کے فائدے کیلئے استعمال کریں گے۔تاہم انہوں نے ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کی مدد سے یہ ٹیرف ملک کے مفاد میں بحال کر دیے جائیں گے۔مذکورہ فیصلہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع یو ایس کورٹ آف اپیلز فار دی فیڈرل سرکٹ نے 7-4 کی اکثریت سے سنایا۔