کیف//یو این آئی// یوکرین کے زاپوریزہیا علاقے میں جاری تنازعہ کے درمیان اقوام متحدہ کی نیوکلیئر مانیٹرنگ ٹیم روس کے زیر قبضہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی ٹیم کا سائٹ پر پہنچ کر پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے ، اس کی حفاظت اور حفاظتی نظام کی فعالیت کا تعین کرنے ، ملازمین کی حالت کا جائزہ لینے اور فوری حفاظتی اقدامات کرنے کا پروگرام ہے ۔ اقوام متحدہ کے چیف نیوکلیئر انسپکٹر رافیل گروسی نے نے روانگی سے پہلے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ زاپوریزہیا کے علاقے میں جاری تنازعات سے آگاہ ہیں لیکن ہم نہیں رکیں گے اور اپنا سفر جاری رکھیں گے ۔ بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی نیوکلیئر مانیٹرنگ ٹیم کے راستے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ بی بی سی نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب بکتر بند گاڑیوں کا قافلہ ‘گرے زون’ والے علاقوں سے آگے بڑھے گا جہاں کسی بھی فریق کی فوج کا کنٹرول نہیں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین دونوں نے حالیہ ہفتوں میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے ۔ اس سے قبل منگل کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے ملاقات کی اور زاپوریزہیا نیوکلیئر پاور پلانٹ (این پی پی) میں آئی اے ای اے کے مشن کے بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر زیلینسکی اور مسٹر گروسی نے پلانٹ کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے عالمی نتائج کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی،آئی اے ای اے مشن کو پلانٹ کا معائنہ کرنے کے لیے ضروری قدم قرار دیا۔ مسٹر زیلنسکی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسٹر گروسی کے تحت آئی اے ای اے مشن پلانٹ کو محفوظ بنانے کا راستہ نکال لے گا۔ خیال ر ہے کہ زاپوریزہیا نیوکلیئر پاور پلانٹ یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹس میں سے ایک ہے ۔