قلمکار: پیوش گوئل
پریاگ راج سنگم میں مہاکمبھ کی شاندار کامیابی کے بعد، اب وقت ہے کہ تین ترقیاتی دھاراؤںکے سنگم اختراع، روزگار کی تخلیق، اور کاروبارکاجشن منایاجائے، جو وزیراعظم نریندر مودی کے وژن یعنی وکاس (ترقی) اور وراثت (ثقافتی میراث) کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک متحرک بھارت کی تشکیل کر رہے ہیں۔یہ تینوں دھارائیں 3 اپریل کو اسٹارٹ اپ مہاکمبھ میں یکجا ہوں گی۔ پریاگ راج کے روح پروراجتماع کی طرح، اسٹارٹ اپ مہاکمبھ کو بھی عظیم اور عالمی پیمانے پر منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس تقریب میں 3,000 سے زائد اسٹارٹ اپس، 1,000سے زیادہ سرمایہ کار، 500 سے زائدمقررین، اور 15,000 سے زیادہ مندوبین اور کاروباری زائرین شریک ہوں گے، جن میں 50سے زائد ممالک سے شرکت ہوگی۔ یہ اسٹارٹ اپس کے لیے تعاون، رہنمائی، فنڈنگ، اور نئےبازاروں تک رسائی کے مواقع تلاش کرنے کا ایک طاقتور پلیٹ فارم ہوگا۔ خصوصی ماسٹرکلاسز، علمی سیشنز، اور نیٹ ورکنگ فورمز کے ساتھ، یہ تقریب نہ صرف اختراع کو فروغ دےگی بلکہ اگلی نسل کے کاروباریوں کو اپنے منصوبے شروع کرنے کی ترغیب بھی دے گی۔
اس کے علاوہ، اس سال کے مہاکمبھ میں، تین درجاتی سرمایہ کاروں کی قیادت میں جیوری عمل کے ذریعے 150 فائنلسٹس کا انتخاب کیا جائے گا، جو بھارت کے سب سے بڑے نجی شعبے کےفنڈڈ گرینڈ انوویشن چیلنج میں حصہ لیں گے، جس کا انعامی 50 کروڑ روپے کے انعام ہیں۔
اختراع چاہے وہ قدیم بھارت میں شطرنج کا کھیل ہو یاصفرکا تصور، یا آج کے یو پی آئی،چندریان، اور منگل یان، اختراع ہمیشہ سے بھارتی ڈی این اے کا حصہ رہی ہے۔ نئے خیالات،اختراعی اشیا اور خدمات جو صحت مند تحقیق و ترقی کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں، بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے مشن میں آگے بڑھائیں گی۔ مناسب طور پر، اس تقریب کا موضوع ہے’اسٹارٹ اپ انڈیاایٹ2047‘ ہے۔
پی ایم مودی کا وژن:۔اپنی یوم آزادی کی تقریر میں 2015میں پی ایم مودی نے بھارت کو عالمی اسٹارٹ اپ مرکزبنانے اور ملک کو روزگار کے متلاشیوں کے بجائے روزگار تخلیق کرنے والوں کی قوم میںتبدیل کرنے کا اپنا وژن بیان کیا تھا۔ اس کے فوری بعد، تبدیلی لانے والی اسٹارٹ اپ انڈیا پہل شروع کی گئی۔
پی ایم مودی کی اس پہل نے نوجوانوں کی توانائی کا ایک زبردست سیلاب پیدا کیا ہے جو بھارت کے کاروباری منظر نامے کو تبدیل کر رہا ہے۔ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس کی تعداد 2016 میں صرف 500 سے بڑھ کر اب تقریباً 1.7 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ منصوبے 55 سے زائد شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں فِن ٹیک، ڈیپ ٹیک، ایڈ ٹیک، نینو ٹیک، بائیو ٹیک، اسپیس ٹیک، ایگری ٹیک،اور ہیلتھ ٹیک شامل ہیں، جو بھارت کو ٹیکنالوجی سے چلنے والی کاروباریت کا گہوارہ بننے میںمدد دے رہے ہیں۔
حکومت بھی اسٹارٹ اپس کی فنڈنگ کی حمایت کے لیے فعال اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پچھلے سال کے بجٹ میں، ہماری حکومت نے اینجل ٹیکس ختم کیا، جسے نئے کاروباریوں نے سراہا۔ اس سال، بجٹ میں 10,000 کروڑ روپے کا نیا فنڈ آف فنڈز شروع کیا گیا۔
روزگار اور حل:۔– حکومت سے رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس نے 31 جنوری 2025 تک 17.69 لاکھ براہ راست روزگار پیدا کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ حقیقی دنیا کے چیلنجوں کے لیے جدید حل فراہم کر رہے ہیں۔ چھاتی کے کینسر کا پتہ لگانے میں نان انویزیواے آئی سے چلنے والی تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب، کسانوں کو براہ راست خریداروں سے جوڑ کر دیہی تجارت میں آسانی، سستی اور موثر ادائیگی گیٹ وے حل کی فراہم ، فضلہ کو دولت میں تبدیل کرنے والے شاندار ماحول دوست مصنوعات کی تخلیق ، ہمارے سائبر اسپیس کو محفوظ بنانے جیسی چند مثالیں ہیں جن سے ہمارے اسٹارٹ اپس بھارت اور دنیا کے لیے چیلنجوں سے نمٹ رہے ہیں۔
ہمارے اسٹارٹ اپس بہت چست اور تیز رفتار بھی ہیں۔کورونا وائرس وباء کے دوران، جن اسٹارٹ اپس نے مضبوط تجزیاتی حل، ڈرونز، ٹیلی کمیونی کیشن پلیٹ فارمز وغیرہ تیار کیے تھے، انہوں نے فوری طور پر ان ٹیکنالوجیز کو رابطہ کاری، قرنطینہ کی نگرانی، اور وار رومز کے لیے ڈیش بورڈز تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے پی پی ای کٹس، وینٹی لیٹرز، اور نمونہ جمع کرنے کی مصنوعات اور خدمات جیسے اہم آلات تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
کاروباری ثقافت:۔– اسٹارٹ اپ انڈیا پہل نے ملک بھر میں کاروباری ذہنیت کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ جہاں کبھی خاندان محفوظ نوکری کی آسودگی تلاش کرتے تھے، آج وہ اپنے نوجوان خاندانی اراکین کے کاروباری مہم جوئی پر فخر کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ ہمارے پرجوش نوجوانوں کو روزگار کے متلاشیوں کے بجائے روزگار تخلیق کرنے والوں میں تبدیل کر رہا ہے۔ایسی توانائی سے جنم لینے والے منصوبے نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ایک ارب ڈالر سے زائد قیمت والے بھارتی یونیکورنز کی تعداد 2016 سے پہلے 10 سے کم سے بڑھ کر آج 110 سے زیادہ ہو گئی ہے، جن کی مجموعی قیمت صنعت کے تخمینوں کے مطابق 385 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
عوامی خریداری میں حمایت:۔ ہماری حکومت نے گورنمنٹ ای۔مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) میں اہل اسٹارٹ اپس کے لیے ترجیحی سلوک کی خصوصی فراہمی کی ہے۔ یہ پلیٹ فارم بیچنے والوں کو سرکاری محکموں کی خریداری تک شفاف اور بدعنوانی سے پاک رسائی دیتا ہے، جس سے کاروباریوں کو پیچیدہ طریقہ کار اور اس سے پہلے موجود مفاد پرستوں کو نظرانداز کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جی اییم نے 29,780 سرکاری رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس کو جمہوری مارکیٹ رسائی، آسان پروڈکٹ لسٹنگ، اور عوامی خریداری میں ٹرن اوور اور تجربے کی ضروریات میں نرمی کی مدد سے 4,09,155 آرڈرز پورے کرنے کے قابل بنایا، جن کی مالیت 37,460 کروڑ روپے ہے۔
نئے بھارت کے مینار:۔– آج، اسٹارٹ اپس نئے بھارت کی امید کے مینار ہیں۔ ترقی پذیر اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بھارتی معیشت کو تبدیل کر رہا ہے تاکہ ہمارے شہریوں کے لیے زندگی کی آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔
پریاگ راج میں مہاکمبھ نے بھارت کے روحانی عظمت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور ہمارےنوجوانوں کو اپنی ثقافت، ورثے، اور عقائد کو فخر سے اپنانے کے لیے تیار کیا۔ پی ایم مودی کےذریعے بنایا اور پروان چڑھایا گیا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم نوجوانوں کو کاروباری ثقافت اپنانے میںمدد دے رہا ہے جو بھارت کو اختراع، نئی ٹیکنالوجی، اور نئے خیالات کا عالمی طاقتور مرکزبنائے گا۔
مضمون نگار صنعت و حرفت کے مرکزی وزیر ہے۔(مضمون بشکریہ پی آئی بی)