اشفاق سعید
کرناہ//شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب آگ کے ایک بھیانک واردات میںتاریخی دارالمومنات مدرسہ کنڈی پائین کی عظیم الشان عمارت آگ کی لپیٹ میں آکر مکمل طور پر خاکستر ہوگئی۔ اس ادارے میں 12 کلاس رومز اور 16 کمرے موجود تھے، جہاں طالبات کے لئے گرمی اور سردی کی تمام سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔مدرسہ میں آگ صبح ساڑھے پانچ بجے لگی ، جس نے آناً فاناً پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیا۔فی الوقت250 لڑکیاںیہاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یہ دارالعلوم 2003 میں قائم کیا گیاہے اور اپنے قیام سے اب تک علاقے کے لئے ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ لڑکیوں کا مدرسہ ہے، جہاں صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک بچیوں کو قرآن پاک کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ مدرسے میں اس وقت 15 اساتذہ اورعملہ کے 2افراد اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں 90 بچیاں یہاں سے قرآن پاک حفظ کرچکی ہیں جبکہ قیام سے اب تک 400 سے 500 بچیاں قرآن کریم حفظ کر کے فارغ ہوچکی ہیں۔اہلِ علاقہ نے اس سانحے کو ایک عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک دینی و روحانی مرکز تھا جو سینکڑوں گھروں میں قرآن کی روشنی پہنچا رہا تھا۔مدرسے کے منتظم حاجی شبیر احمد خان نے اس موقع پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “یہ اللہ کا فیصلہ ہے، لیکن ان شا اللہ ہم ہمت نہیں ہاریں گے، ادارے کو دوبارہ تعمیر کر کے علم و قرآن کی شمع کو بجھنے نہیں دیا جائے گا۔”مدرسہ دارالمومنات کرناہ 23برسوں سے اسلامی تعلیم اور روحانی رہنمائی کے مرکز کے طور پرکام کررہا ہے، جس نے لاتعداد طلبا کی زندگیوں کو تشکیل دیا ہے۔ اس کی تباہی نے علاقے کے مذہبی اور تعلیمی تانے بانے میں ایک گہرا خلا پیدا کر دیا ہے۔آگ بھڑکنے کے فورا ًبعد بھارتی فوج موقع پر پہنچ گئی اور آگ پر قابو پانے میں اہم مدد فراہم کی۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ اور مقامی رہائشیوں کے ساتھ، فوج نے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔مدرسہ حکام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صدر بیوپار منڈل کرناہ اور ایم ایل اے کا نمائندہ جائے وقوعہ پر پہنچے اورچیئرمین دارالمومنات حاجی شبیر احمد ترک اور ادارہ کے دیگر ممبران سے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔