سرینگر//95روز( تین ماہ 5دن) کے بعدجموں کشمیر بورڈ آف سکول ایجو کیشن نے منگل کو گیارہویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان کر دیا ۔ بورڈ کی جانب سے یہ ابتک کا ریکارڈ ہے کہ کسی جماعت کے امتحانی نتائج میں 3ماہ سے زائد کا عرصہ لگا ہو۔عمومی طور پر 40روز کے اندر نتائج منظر عام پر لائے جاتے ہیں۔یہاں یہ کہنا لازمی ہے کہ گیارہویں جماعت کے امتحانات متعلقہ سکولوں میں ہی6جنوری تک منعقد کرائے گئے لیکن اسکے باوجود بھی 3ماہ کا طویل عرصہ نتائج ظاہر کرنے میں لگا اور یوں طلباء و طالبات کو طویل عرصے کیلئے انہیں شش و پنج میں مبتلا کر کے ذہنی اعصاب کا شکار بنایا گیا۔ گیارہویں کے امتحان میںکامیاب امید واروںکی شرح مجموعی طور پر 76 فیصدرہی ہے جبکہ ایک مرتبہ پھر لڑکیوںنے امتیازی پوزیشنوں پر قبضہ جما لیا ۔ قابل ذکر ہے کہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں اور بارہویںجماعت کے امتحانی نتائج پہلے ہی منظر عام پر لائے تھے تاہم گیارہویںجماعت کے امتحانی نتائج کا ابھی تک اعلان نہیںکیاگیا تھا جس کے باعث طلبہ میں تذبذب کی لہر پائی جا رہی تھی جبکہ والدین میںبھی تشویش تھا ۔حکام کے مطابق اس امتحان میں75,652اْمیدواروں نے حصہ لیا تھا جن میں سے57,658اْمیدوار کامیاب قرار پائے ۔اعداد و شمار کے مطابق لڑکیوں میں کامیابی کی شرح79فیصد جبکہ لڑکوں میں یہ شرح74فیصد رہی ۔بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے مطابق کم سے کم 25ہزار701طلباء نے 11 ڈسٹنکشن حاصل کیا جبکہ21ہزار309طلاب نے پہلے ڈویژن میں کامیابی حاصل کی۔نتائج کے دوران ، 9339 نے دوسرے ڈویژن اور 1294 طلبانے تیسرے ڈویژن کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔پندرہ طلباء نے اپنے اضافی تیسرے مضمون میں کوالیفائی کیا۔اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امتحانات میں کم از کم 394 طلباء غیر حاضر تھے ، 20 طلباء کی اہلیت میں تنازعہ چل رہا تھا ، آٹھ کو نااہل اور تین طلبا کا امتحان منسوخ کردیا گیا ۔