کوٹرنکہ //بلاک خواص کی پنچایت بیلا میں زیر تعمیر پنچایت گھر گزشتہ چار برسوں سے لینٹر کا منتظر ہے ۔مقامی لوگوں نے تعمیر اتی ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ 2017میں عمارت کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی تاہم اس دوران عمارت کو لینٹر لیول تک پہنچایا گیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ 20لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے تیار ہونے والی عمارت کا لینٹر گزشتہ چار برسوں سے ڈالا ہی نہیں گیا جس کی وجہ سے اب عمارت کی زیر تعمیر دیواریں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ کے زیر تحت عمارت کی تعمیر کے نام پر سرکاری خزانہ کے پیسے کو ہڑپ لیا گیا ہے تاہم عمارت کے مکمل ہونے کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی عمل کارروائی نہیں کی جاسکی ہے ۔مقامی معززین نے محکمہ دیہی ترقی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کی مبینہ طورپر ملی بھگت سے عمارت کو یوں ہی چھوڑدیا گیا ہے ۔بلاک ڈیو لپمنٹ آفیسر خواص نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں 12لاکھ روپے کی رقم وگزارکی گئی ہے جبکہ باقی رقم محکمہ کے پاس موجود ہے۔انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہاکہ جلد ہی عمارت پر لینٹر ڈال دیا جائے گا ۔