۔370 منسوخی کے بعد ہڑتال ہوئی نہ کہیں پتھرچلے ۔174 پولیس و فورسز اہلکار اور 110شہری ہلاک،ہائبرڈ ملی ٹینسی چیلنج نہیں رہی :وجے کمار

نیوز ڈیسک

سرینگر//ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار کا کہنا ہے کہ ہائی برڈ ملی ٹینٹ پولیس اور سیکورٹی فورسز کیلئے اب کوئی چیلنج نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370کی منسوخی سے ہڑتالوں، اسکولوں کے بند ہونے اور پتھر بازی کے واقعات کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ پلوامہ گرینیڈ حملے میں ملوث جنگجووں کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور بہت جلد اْنہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ وجے کمار نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد، نہ ہی کسی بھی ہڑتال کی کال دیکھنے میں آئی اور نہ ہی انکاؤنٹر کے مقام پر پتھراؤ کا کوئی واقعہ پیش آیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے تین برسوں میں جنازے اور تدفین میں کوئی جلوس نہیں نکلا۔کمار نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد وادی کشمیر میں ملی ٹینسی سے متعلق واقعات میں 284 افراد بشمول 174 پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار اور 110 عام شہری مارے گئے‘‘۔

 

اس کے مقابلے میں 5 اگست 2016 سے 4 اگست 2019 کے دوران 290 سیکورٹی فورسز اہلکار اور 191 عام شہری مارے گئے۔وجے کمارنے کہا کہ 5 اگست 2016 سے 4 اگست 2019 تک امن و امان کی صورتحال میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے چھ اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد یہ تعداد صفر ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 5 اگست 2019 سے 4 اگست 2022 تک امن و امان کے 438 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 5 اگست 2016 سے 4 اگست 2019 کے دوران ایسے واقعات کی تعداد 3686 تھی۔ انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر میں سرگرم ملی ٹینٹوں کے خلاف چلائے جارہے آپریشنز کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ہابرڈ ملی ٹینسی سیکورٹی فورسز کے لئے بڑا چیلنج اْبھر کر سامنے آیا تھا تاہم اب یہ سلامتی عملے کے لئے کوئی چیلنج نہیں ہے کیونکہ ہم نے بھی نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس کے تحت ہابرڈ جنگجووں کی جلد از جلد شناخت کرکے اْنہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ وجے کمار نے بتایا کہ کشمیر کے لوگوں کو پاکستان کے منصوبوں اور سازشوں کو سمجھ لینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ عوام الناس پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ اپنا بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ وادی کشمیر میں امن و امان کی فضا قائم ہو سکے۔پلوامہ میں جمعرات کی شام کو غیر مقامی مزدوروں پر ہوئے گرینیڈ حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میںانہوں نے بتایا کہ اس حملے میں لشکر طیبہ کے دو ملی ٹینٹ ملوث ہیں جن کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور بہت جلد اْنہیں انجام تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ موٹر سائیکل پر سوار دو ملی ٹینٹوں نے اس حملے کو انجام دیا تھا۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ آج شہر سرینگر اور دیگر اضلاع میں سبھی مارکیٹ کھلے ہیں۔وجے کمار نے بتایا کہ جن نوجوانوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے اْنہیں پولیس کے تعاون سے واپس مین اسٹریم کی اور لایا جائے گا۔