سرینگر //گزشتہ تین دہائیوں کے دوران وادی میں 40 ہزار کنال زرعی اراضی کو تعمیراتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا گیا ہے جبکہ زعفران کی اراضی میں بھی00 17 ہیکٹر کی کمی واقع ہوئی ہے ۔پچھلے تین دہائیوں سے وادی میں زرعی اراضی ختم کرنیکا رجحان بڑھ گیا اور اب صورتحال اس قدر تشویشناک بن گئی ہے کہ وادی میں راشن ، سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قحط پڑ رہی ہے۔کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ زرعی سرگرمیوں کو ترک کرکے غیر زرعی سرگرمیوں میں اپنامعاش تلاش کررہے ہیں۔معلوم رہے کہ ریاست جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ 1996میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ کوئی بھی شحص زرعی اراضی کو محکمہ مال کی اجازت کے بغیر کسی بھی کام میں استعمال نہیں کرسکتا اور زمین زراعت کے بغیر کسی بھی کام میں استعمال کرنے کیلئے اجازت حاصل کرنا لازمی ہے، تاہم سال 2016میں زمین استعمال کرنے کی پالیسی ترتیب دیکر تمام لوگوں کیلئے زرعی زمین پر کوئی بھی دیگر کام کرنے پر عائد پابندی ختم کردی گئی۔
2016کی’ لینڈ یوز ‘پالیسی میں صاف طور پر واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص 2کنال اراضی تعمیراتی کاموں کیلئے استعمال کرسکتا ہے اور اس کیلئے کوئی بھی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی مگر پالیسی کے تحت 2کنال اراضی سے زیادہ کی زمین پر زراعت کے بجائے دیگر کام کرنے کیلئے سرکاری اجازت نامہ کی ضرورت ہوگی اور سرکار نے لوگوں کو اجازت فراہم کرنے کیلئے ضلع ترقیاتی کمشنروں کی قیادت میں کمیٹیاں بھی تشکیل دیں مگر اس کے باوجود بھی ریاستی سرکار کو اطلاع کئے یا پیشگی اجازت حاصل کئے بغیر تعمیرات کا کام زور و شور سے جاری ہے۔موجودہ بی جے پی حکومت نے زرعی قوانین میں ترمیم کی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ نئے قوانین کے مطابق زمین کے مالک کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ اپنی زرعی اراضی کسی غیر کاشت کار کو بھی فروخت کر سکتا ہے یا اس کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ جس کے بعد زمین لینے والا شخص اس اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔محکمہ زراعت کے ذرائع کے مطابق سال 1990میں کشمیر میں کل زرعی اراضی 2لاکھ 62ہزار کنال تھی جس میں ایک لاکھ 62ہزار کنال اراضی پر دھان جبکہ ایک لاکھ کنال اراضی پر مکئی کی کاشت ہوتی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ اسوقت141.3ہزار ہیکٹر اراضی پر دھان ،80ہزار ہیکٹر پر مکئی اور63.7ہزار ہیکٹر پر سبزیوں کی کاشت ہوتی ہے۔ماہر زراعت اور متعلقہ محکمہ کے سابق ڈائریکٹر الطاف اعجاز اندرابی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر میں پچھلے تین دہائیوں کے دوران زرعی زمین میں تقریباً40 ہزار کنال اراضی کی کمی واقع ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس میں 20ہزار کنال مکئی اور قریب 20سے25ہزار کنال وہ اراضی شامل ہے جس پر دھان کی فصل کی کاشت ہوتی تھی ۔
انہوں نے بتایا کہ اس مدت کے دوران زعفران کی اراضی بھی 17سو ہیکٹر کم ہوئی ہے جہاں پر تعمیرات کھڑا کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی اراضی کتنی باغات میں تبدیل ہوئی، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، البتہ دیہات میں زرعی اراضی پر زیادہ تر میوہ باغات بنائے گئے جبکہ کہیں کہیں تعمیرات بھی کھڑا کی گئیں تاہم قصبوں اور شہری علاقوں میں زرعی اراضی کو کالنیوں میں تبدیل کیا گیا۔اندرابی نے کہا کہ 1950میں ہمارے پاس خوراک کی پیدوار مجموعی طور پر 32فیصد تھی۔ جبکہ زرعی اراضی پر وادی کے لوگوں کی ضرورت پورا کرنے کیلئے 50فیصد چاول کی پیدوار ہوتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ 1970کی دہائی میں ہر ایک گائوں میں کسانوں سے اضافی دھان کی پیدوار حکومتی سطح پر خریدی جاتی تھی جسے متعلقہ دیہات میں ہی شالی سٹوروں میں ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبادی میں متواتر اضافہ اور زعی زمین کے سکڑ جانے کے باوجود ، محکمہ اس شرح کو 48فیصد پر رکھنے میں کامیاب ہوا اور اس کی وجہ خوراک کی جو پرانی اقسام تھیں اس کو زیادہ پیداوار دینے والے بیچوں میں تبدیل کیا گیا جس کی وجہ سے اس میں زیادہ کمی نہیں ہوئی ۔اندرابی نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران زرعی زمین کو دیگر کاموں کیلئے استعمال میں لانے سے زرعی اراضی میں مزید 12فیصد کی کمی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 1950میں فی ہیکٹر اراضی پر چاول اور دیگر اقسام 10کونٹل نکلتے تھے ، مگر اب اعلیٰ معیار کے بیچ آنے سے فی ہیکٹرپر 70 کوئنٹل پیداروارہوتی ہے ۔ادھرمحکمہ زراعت کے ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اسوقت سالانہ 11لاکھ 50ہزار میٹرک ٹن چاول کی ضرورت ہوتی ہے ۔کشمیر صوبے میںچاول کی ماہانہ کھپت 39ہزار 123میٹرک ٹن ہے جبکہ مرکزی سرکار کی جانب سے کشمیر صوبے کو ماہانہ صرف 32ہزار 527میٹر یک ٹن چاول فراہم کی جاتی ہے۔زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب کشمیر خوراک کے معاملے میں کم و بیش خود کفیل تھا لیکن آج حالت یہ ہے کہ جواہر ٹنل چند دن بند ہوجائے تو کہرام مچ جاتا ہے۔سرکار نے علامتی طور آبی زمین کے تعمیرات کے استعمال پر پابندی تو عائد کردی ہے لیکن سرکار کی ناک کے نیچے بلکہ خود سرکار کے بیشتر اعلیٰ عہدیداروں نے آبی زمین پر ہی اپنے نشیمن تعمیر کئے ،نتیجہ یہ ہوا کہ زرعی زمین سکڑتی گئی اور اب دانے دانے کیلئے جموںوکشمیرکو پنجاب اور دیگر ریاستوں سے درآمد ہونے والے اناج کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔چاول سے لیکرگندم اور یہاں تک کہ سبزیاں بھی باہر سے آتی ہیں۔
زرعی یونیوسٹی میں ایسوسی یٹ پروفیسر ڈاکٹر فرہد شاہین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں بہت زیادہ زرعی اراضی پر تعمیرات کھڑا ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ زمین نہ صرف ریلوے پروجیکٹوں بلکہ روڑ پروجیکٹوں کی زد میں آئی جبکہ گائوں دیہات میں لوگوں نے اس پر گھر تعمیر کئے ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے پاس بھی وہی ا عدادوشمار ہیں، جو سرکار کے پاس ہیں ۔محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر چودھری محمد اقبال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ اس حوالے سے بہت جلد ایک سروے کر رہا ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ کتنی اراضی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ زرعی اراضی کافی مقدار میں سکڑ چکی ہے ۔