اظہرحسین
کولگام//سیشن عدالت کولگام نے جمعرات کو 2013 کے اُس سنسنی خیز قتل کیس میں دو افراد کو مجرم قرار دیا، جس نے اس وقت ضلع کولگام کے مترگام علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی تھی۔ عدالت نے علی محمد ڈار اور مظملی، جو مقتول عبدالرشید ڈار کی بیوی ہے، کو سازش رچانے اور اس بہیمانہ قتل کو انجام دینے کا مجرم ٹھہرایا۔یہ کیس ابتدائی طور پر پولیس اسٹیشن کولگام میں ایف آئی آر نمبر 343/2013 کے تحت درج کیا گیا تھا، جو طویل عرصے تک ایک معمہ بنا رہا۔ ابتدائی تحقیقات میں کوئی واضح مقصد سامنے نہیں آیا تھا، تاہم پولیس کی مسلسل محنت اور تفصیلی پراسیکیوشن نے بالآخر ایک چونکا دینے والی کہانی کو بے نقاب کیا ۔پراسیکیوشن کے مطابق، مظملی اور علی محمد ڈار کے درمیان ناجائز تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ وہ اس رشتے کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھنا چاہتے تھے، جس کے باعث انہوں نے مظملی کے شوہر کو راستے سے ہٹانے کی سازش کی۔ یہ قتل کوئی جذباتی قدم نہیں بلکہ ایک ٹھنڈے دماغ سے کیا گیا منصوبہ بند جرم تھا۔عدالت میں پیش کیے گئے اہم ثبوتوں میں شامل تھے،ایک گلاس، جس کا استعمال قتل کے وقت کیا گیا تھا،ایک اسکارف، جو مبینہ طور پر قتل میں استعمال ہوا،ایک موبائل فون، جس میں ناجائز تعلقات اور سازش کی تفصیلات موجود تھیں۔چیف پراسیکیوشن آفیسر (CPO) اعجاز احمد نجار کی قیادت میں استغاثہ نے فرانزک رپورٹ، کال ڈیٹیل ریکارڈز، اور 35 گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر ایک مضبوط مقدمہ تیار کیا۔ سیشنز کورٹ نے کئی سماعتوں کے دوران ہر ثبوت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور پھر فیصلہ سنایا۔عدالت نے دونوں ملزمان کو رانبیر پینل کوڈ کی دفعہ(302 )قتل، دفعہ (120بی (مجرمانہ سازش اور دفعہ (34)مشترکہ نیت کے تحت مجرم قرار دیا۔سی پی او اعجاز احمد ناجر نے فیصلے کو ’انصاف کی راہ میں ایک سنگِ میل‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چاہے جتنا وقت بھی لگ جائے، قانون مجرموں تک ضرور پہنچتا ہے۔اس مقدمے میں سزا کا اعلان جلد متوقع ہے۔