سرینگر // جموں و کشمیر میں گذشتہ سال 24مارچ کو نافذ لاک ڈائون سے عام لوگوں کے سونے کے معمولات میں تبدیلی آئی ہے اور لوگ نیند نہ آنے کی بیماری کے شکار ہوگئے ہیں۔ نیند کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عالمی وباء کی موجودہ صورتحال، گھریلو تنائواور مالی مشکلات کی وجہ سے لوگ پریشانی ، اعصابی تنائو اور بے خوابی کے شکار ہوجاتے ہیں جبکہ ہائی بلڈ پریشر، نس پھٹنے سے بھی لوگ نیند نہ آنے کی بیماری کی بڑی وجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں 20فیصد جبکہ دیگر بیماریوں میں مبتلا 5فیصد لوگ نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں۔ مینٹل اسپتال کاٹھی دروازہ میں تعینات ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد خان نے بتایا ’’ ذہنی دبائو، بے قراری اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی حالت مختلف ہوتی ہے اور ہر ایک مریض کا رویہ مختلف ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ذہنی دبائو سے نیندنہ آنے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اورحالیہ دنوں میں ان مریضوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے‘‘۔۔ انہوں نے کہا کہ نیند نہ آنے کی شکایت کرنے والے مریضوں میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے‘‘۔ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ ہر روز اگر 20مریض نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں تو ان میں سے 12خواتین ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ لاک ڈائون کے دوران جب لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں تھی تو وہ گھروں میں بیٹھ کر دن کو ہی نیندپوری کرتے تھے او راب یہی لوگ رات کے وقت نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ سخت لاک ڈائون کے 4ماہ کے دوران لوگوں کے سونے کے معمولات میں تبدیلی آئی جو اب ان کے رویہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے‘‘ ۔ نس پھٹنے، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی مریضوں کونیند نہیں آتی ہے اور اس صورتحال میں مریضوں کی واحد اُمید شعبہ نیورولوجی ہوتا ہے جہاں ان مریضوں کا ماہر ڈاکٹر علاج و معالجہ کرتے ہیں۔شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں شعبہ نیورولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’نیند نہ آنے کی بڑی وجہ ذہنی دبائو ہے لیکن نس پھٹنے اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے بھی لوگ نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گھریلوصورتحال کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد ذہنی دبائو کی شکار ہیں اور اکثر نیند نہ آنے کے بعد ہائی بلڈ پریشر کی شکایت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ 3اگست 2012کو منظر عام پر آنے والے تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت میں 5فیصد لوگ بے خوابی کے مرض کے شکار ہیں جن میں 6.5فیصد خواتین جبکہ 4.3فیصدمرد شامل ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ کشمیر میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ شعبہ نیورولوجی میں آنے والے 5فیصد لوگ نیند نہ آنے کی بیماری سے جوج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں خواتین کی ایک بڑی تعدادہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ مرد روز مرہ کے کام کاج کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے ذہنی دبائو سے باہر آجاتے ہیں لیکن خواتین کی صورتحال کافی مختلف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا’’ بیشتر خواتین گھروں میں ہی بیٹھتی ہیں اور اسکی وجہ سے گھر کی صورتحال کا ان پر کافی اثر ہوتا ہے‘‘۔