سرینگر //سرینگر کی تاریخی جامعہ مسجد میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرین پر پولیس کی ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ سے 30افراد زخمی ہوگئے جن میں 15نوجوان کی آنکھوں میں پیلٹ لگے جن میں ایک نوجوان کی دونوں آنکھیں پیلٹ لگنے سے متاثر ہوئی ہیں۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران پولیس کی بھاری جمعیت جامع مسجد سرینگر کے صحن میںجمع ہوگئی اور جوں ہی لوگ مسجدسے باہر آئے تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی اور جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ کا استعمال کیا جس میں 30افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صدر اسپتال سرینگر میں شعبہ امراض چشم کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’صدر اسپتال سرینگر میں جمعہ کو 15پیلٹ متاثرین کو داخل کیا گیا جن میں 10کی آنکھوں میں پیلٹ لگے تھے جبکہ 5نوجوانوں کی آنکھ کا باہری حصہ پیلٹ کا نشانہ بنا تھا‘‘ ۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے نوجوانوں میں دو کی آنکھوں میں کافی شدید چوٹیں آئی ہیں جبکہ دیگر نوجوانوں کو معمولی نوعیت کے زخم لگے تھے۔مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ 5نوجوانوں کو ابتدائی علاج و معالجہ کے بعد گھر واپس روانہ کردیا گیا جبکہ 10 زیر علاج ہیں۔