ڈوڈہ//ڈوڈہ کی تحصیل کاہرہ میں پنچائت گوئلہ کے لوگوں نے معاوضہ ادا نہ کرنے پر پی ایم جی ایس وائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی برسوں سے ان کی فائلیں دفتروں میں پڑی ہیں اور ابھی تک انہیں معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔احتجاجی مظاہرین نے پی ایم جی ایس وائی و تعمیراتی ایجنسی کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔محمد شفیع نامی ایک مقامی زمیندار نے کہا کہ 10برس قبل کاہرہ ٹانٹا سڑک کی وجہ سے زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اخروٹ کے 8درخت و ایک بیت الخلا بھی تباہ ہوا جو کہ سرکاری ریکارڈ میں بھی درج ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے معاوضہ کی فائل ہم نے تیار کرکے پی ایم جی ایس وائی کے دفتر ٹھاٹھری میں جمع کی جو کہ وہاں سے غائب ہوئی اور ابھی تک ہم معاوضہ سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو لے کرمتعلقہ دفتر کے سینکڑوں چکر کاٹے لیکن سوائے دربدری کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے رشوت دی انہیں معاوضہ مل گیا اور جس نے انکار کیا اسکو معاوضہ سے محروم رکھا گیا۔75سالہ غلام محمد نے کہا کہ ان کی معاوضہ کی فائل 5سال سے زیر التواہے۔انہوں نے کہا کہ محنت مزدوری کر کے کرایا جمع کیا اور سینکڑوں چکر مذکورہ دفتر کے لگائے لیکن صرف ٹال مٹول کیا گیا۔علاقہ کے نامور سماجی کارکن جعفر حسین پرے نے کہا کہ عرصہ 10سال قبل جب پی ایم جی ایس وائی کے تحت کاہرہ ٹانٹا سڑک کا کام شروع کیا گیا تو اسوقت کے آفیسروں و ملازمین نے غریب عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کرکے ان کی زمینوں و باغات کو بھاری نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ زمینداروں نے معاوضہ کی فائلیں تیار کیں لیکن ابھی تک انصاف نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو رشوت لے کر معاوضہ دیا گیا۔پرے نے ضلع و سب ڈویژنل انتظامیہ سے معاملہ کی تحقیقات کرنے و پی ایم جی ایس وائی کے اے ای ای کے خلاف کارروائی کرکے متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی تو وہ لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے باہر احتجاج کریں گے۔