سرینگر// جنوبی ضلع کولگام میں امسال 11اپریل کو فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے بیچ جائے جھڑپ کے نزدیک4 نہتے شہریوں کی ہلاکت پر پولیس نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں رپورٹ پیش کی،جس میں تمام مہلوکین پر مشتعل ہجوم کی قیادت کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ 11اپریل کو کولگام کے کھڈونی علاقے میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ کے بیچ4عام شہری جاں بحق جبکہ ایک اہلکار ہلاک اور2زخمی ہوئے، تاہم جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل فورم فا جسٹس چیئرمین محمد احسن اونتو نے23 اپریل کو کمیشن کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے درخواست کی کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے۔کیس کی شنوائی کے دوران کمیشن نے پولیس کو واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ رپورٹ کو پولیس نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ10اپریل کو شام11بجکر25منٹ پر ڈی ایس پی آپریشنز(میر بازار کیمپ) نے اپنے ذاتی محافظوں اور فوج کی فسٹ آر آر کے علاوہ سی آر پی ایف18ویں بٹالین کے اہلکاروں سمیت کھڈونی کے وانی محلہ کا محاصرہ کیا،جہاں انہیں معتبر ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ وہاں بن یامن،اعجاز مکرو اور آزاد احمد وگے نامی جنگجو ایک اور عسکریت پسند شبیر احمد وانی ولد غلام محمد کے گھر میں چھپے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تلاشیوں کے دوران جنگجوئوں نے فورسز پر اندھادھند طریقے سے فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار گنو کارمورس زخمی ہوا،اور بعد میں بادامی باغ فوجی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران فورسز نے متعلقہ علاقے کا محاصرہ کیا،اور اعلیٰ پولیس و فورسز افسران بھی جائے جھڑپ پر پہنچ گئے،جن میں ڈی آئی جی سی آر پی ایف بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس دوران جنگجوئوں نے ایک مرتبہ پھر اندھا دھند طریقے گولیاں چلا کرمحاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی،تاہم متحرک فورسز اہلکاروں نے انکی اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ رپورٹ کے مطابق کھڈونی کے نواحی دیہاتوں سے سرجیل احمد شیخ ولد عبدالحمید شیخ ساکن کھڈونی، بلال احمد تانترے ولد نذیر احمد ساکن کجر حال ہاورہ،فیصل احمد ولد غلام نبی آلائی ساکن ملہورہ شوپیان،اعجاز احمد ولد محمد سکندر ساکن نوبل بٹہ پورہ حال تلہ کھن بجبہاڑہ،عامر بدرو ولد محمد امین ساکن بڈر پورہ کیموہ،سرتاج احمد بٹ ولد غلام محمد ساکن کھڈونی،عادل احمد لون،ولد عبدل گنائی ساکن شمسی پورہ، عبدالاسلام بت ولد عبدالرحیم ساکن ہاورہ،مشتاق احمد ولد عبدالحمید کھانڈے ساکن کھڈونی،ادریس احمد بٹ ولد شعبان بٹ ساکن ٹھوکر پورہ قیموہ کی قیادت میں لوگوں نے ہاتھوں میں لاٹھیاں،سنگ اور آہنی راڑ لیکر جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی،اور فورسز پرسنگبازی کرنے کے علاوہ پیٹرول بم بھی پھینکا،تاکہ فورسز کے محاصرے سے جنگجو ئوں کو فرار ہونے کا موقعہ مل سکے۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا’’لوگوں کے بڑے ہجوم میں کچھ نامعلوم عسکریت پسند بھی موجودتھے جنہوں نے غیر قانونی طور پر جمع ہوئے لوگوں کے مجمع کو مشتعل کیا،اور انہیں پیش رفت کرنے پر اکسا دیا۔اس اکسانے پر ہزاروں لوگوں پر مشتمل نے اپنی زندگی کی پرواہ کئے بغیر جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی،تاکہ محاصرے میں پھنسے ہوئے جنگجو کو محفوظ راہ فرار مل سکے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوع پر موجود ڈی آئی جی ،سی آر پی ایف اور ایس پی کولگام سمیت دیگر افسران نے،صورتحال کا احاطہ کر کے،لوگوں کو سمجھانے کی بھر پور کوشش کی،تاہم مشتعل ہجوم اپنی ضد پر ڈٹارہا اور افسران کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے جائے جھڑپ کی طرف مارچ کیا۔رپورٹ میں کیا گیا’’ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں ٹیر گیس کے کچھ گولے چلائے گئے،تاہم مشتعل ہجوم نے فورسز پر قابو پاکر ان سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی،مگر سیکورٹی فورسز معیاری عملیاتی طریقہ کار پر عمل کرتے رہے،اور صبر کا مظاہرہ کیا،جس کی وجہ سے لوگوں کا ہجوم محاصرہ والے علاقے میں داخل ہوا،جہاں جنگجو چھپے تھے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران شبیر احمد کے مکان کی تیسری منزل سے جنگجوئوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی،جبکہ اس وقت لوگوں کا ہجوم بھی محاصرہ والے علاقے کی طرف پیش قدمی کررہا تھا،اور عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے اس ہجوم کی قیادت کرنے والے کچھ لوگ اور فور اہلکارزخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اس مشتعل ہجوم میں شامل لوگوں نے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا،جہاں سرجیل احمد شیخ،بلال احمد تانترے، فیصل احمد آلائی اعجاز احمد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔پولیس کی طرف سے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کئے گئے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے سے متعلق پولیس تھانہ کیموہ میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر10/2018زیر دفعات7/27آرمز ایکٹ307،332،212آر پی سی درج کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں شبیر احمد اور کچھ دیگر لوگوں کے مکانات کو نقصانات پہنچا۔رپورٹ کے مطابق جائے وقع پر موجود افسران نے بعد میںجنگجوئوں کو پکڑنے کا آپریشن بند کیا،تاکہ لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جاسکے،جبکہ عسکریت پسند بھی مشتعل ہجوم کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔رپورٹ کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہے،جبکہ اب تک کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ چاروں مہلوکین سمیت دیگر کچھ لوگوں کے خلاف کئی دفعات کے تحت جرم وار قرار پایا گیا ہے۔