یادوں کے جھروکے سے

 میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا
اور ترکِ تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا
میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا
میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا
خوشبو کسی تشہیر کی محتاج نہیں ہوتی 
سچا ہوں مگر اپنی  وکالت نہیں کرتا
احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر
میں جبر مسلسل کی شکایت نہیں کرتا
میں عظمتِ انسان کا  قائل تو ہوں محسن
لیکن کبھی بندوں کی عبادت نہیں کرتا
محسن نقوی 
اگر کسی آدمی میں اللہ تعالیٰ نے لفظوں میں اُترنے کی استعداد رکھی ہو اور وہ میری تحریروں پر غور کرے تو ڈوبتا ہی چلا جائے گا اور پھر شاید ان گہرائیوں سے اُبھر بھی نہ سکے۔ میں کبھی کبھی خود کو ہی تلاش کرنے لگتا ہوں مگر اپنے آپ کو کہیں نہیں پاتا، بس درد کے صحرا مل جاتے ہیں۔ مجھے خود اپنے آپ پہ حیرت ہے کہ میں زندہ کیسے ہوں؟ نہ جانے کونسی مٹی ہے جس کے کچھ ذرے ابھی تک میری روح کو اپنی گرفت میں روکے ہوئے ہیں؟ اللہ ہی جانے کہ کیا اس دنیا میں ایسا کوئی دوسرا شخص بھی ہے جو زندگی کے بغیر جی رہا ہے؟
خیر چلئے یادوں کی بارات کی طرف چلیں۔ میرے بچپن میں جب چھوٹی چھوٹی لڑکیاں کسی بات پر ایک دوسرے سے جھگڑتی تھیں تو پھر ایک دوسرے کو کوسنے کے دوران یہ بددعا بھی دیتیں:گژھ لگی نے جارہ!‘‘ ایک دن میں نے اختر محی الدین صاحب سے پوچھا کہ حضرت میرے بچپن میں چھوٹی لڑکیاں جھگڑنے کے دوران ایک دوسرے کو ایسا بددعا دیا کرتی تھیں حالانکہ انہیں خود اس کا مفہوم معلوم نہیں ہوتا تھا، صرف اتنا جانتی تھیں کہ یہ بددعا ہے۔ یہ ’’جارہ‘‘ ہوتا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جب پرانے دور میں کوئی لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ جاتی تو یہ لڑکی والوں کے لئے بہت ہی زیادہ رسوائی کی بات ہوتی تھی، محلے کے لوگ اس گھر کے باہر لڑکی والوں کو زیادہ رُسوا کرنے کی خاطر شکر تقسیم کرتے بلکہ اس گھر کے باہر ڈول بجائے جاتے، ایسے موقعے پہ ڈول بجانے کو ’’جارہ‘‘ کہا جاتا تھا۔انسانی زندگی کا سب سے بڑا قیمتی تحفہ اس کی جوانی ہوتی ہے۔ اس کا کوئی مول نہیں، اس کی کوئی مثال نہیں۔ بڑے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس قیمتی تحفہ سے اس کے شایان شان کام لینے کے اہل ہوتے ہیں، ورنہ میں نے دیکھا ہے کہ عام طور لوگوں کا یہ نہایت خوبصورت تحفہ سردیوں میں چاندنی کی طرح ضائع ہی ہوجاتا ہے۔ جوانی میرے حصے میں بھی آئی مگر میں اس سے وہ لطف نہ لے سکا جس لطف کی استعداد اس تحفہ میں ہوتی ہے۔ بہرحال عمر کے نقارے پر وقت کی ضربیں پڑتی رہیں اور بوڑھاپے نے چمٹ لیا۔ اب یادوں کا بھی سہارا نہیں کیونکہ وہ بھی دُھندلی پڑنے لگی ہیں۔ 
ریگل چوک سرینگر کا نام ریگل چوک اس لئے پڑا کیونکہ اس جگہ ریگل نام کا سنیما ہال ہوا کرتا تھا۔ دراصل اس جگہ ساتھ ساتھ دو سنیما ہال ہوا کرتے تھے۔ ایک کا نام ریگل سنیما تھا اور دوسرے کا نام امریش سنیما تھا۔ امریش سنیما امریش نامی ایک پنجابی شخص کے باپ نے بنایا تھا اور سنیما کا نام اپنے بیٹے امریش کے نام پر رکھا تھا۔ امریش کی بیوی بلند قامت، صحت مند اور خوبصورت تھی۔ امریش بڑے لاڈ پیار سے پلا تھا اور دنیا کی تمام راحتوں کا سامان اُنہیں میسر تھا۔ وہ بڑی شان و شوکت سے رہتے تھے۔ ان کے پاس قیمتی گاڑی تھی۔ اثرورسوخ بھی بہت تھا مگر جب وقت اپنا رُخ بدل دیتا ہے تو ہندوستان کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو کوئے یار میں دفن کے لئے دو گز زمین بھی نصیب نہیں ہوتی اور ایران کے بادشاہ رضاہ شاہ پہلوی کو ایران میں دفن کے لئے دو گز زمین نہیں ملتی اور پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے، لیبیا کے طاقت ور صدر کرنل قزافی کو اپنے ہی لوگ مار مار کر قتل کردیتے ہیں، عراق کا مضبوط ترین حاکم صدر صدام حسین تختۂ دار پر لٹکایا جاتا ہے،  ذوالفقار بھٹو کے گلے میں پھندا پڑتا ہے، اَودھ کے نواب واجد علی شاہ کو جب انگریزوں نے جیل بھیج دیا تو وہاں پر یہ شعر کہا ؎
کل سر پر تاج تھا گوہر  پاوں کے نیچے
آج سر پر دھوپ ہے کنکر پاوں کے نیچے
جو وقت سے ڈرا نہیں اسے وقت ڈرا دیتا ہے مگر وقت دوسرے تماشے بھی دکھاتا ہے کہ جب وقت بدلتا ہے تو چائے والا ایک سو بیس کروڑ لوگوں کا وزیر اعظم بن جاتا ہے، نیلسن منڈیلا ستائیس سال جیل میں رہنے کے بعد ملک کا طاقت ور حکمران بن جاتا ہے، ایک مسخرے کو یوکرائین کا صدر چن لیا جاتا ہے۔بہرحال وقت نے کروٹ بدلی اور امریش زمین پر آگیا۔ ٹھوکر پر ٹھوکر کھائی۔ گویا ایسا ہوا   ؎
ہم  وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکاں کفن کی تو سب مرنا چھوڑ  دیں
پھر ان آنکھوں نے وہ عبرت انگیز نظارہ بھی دیکھا کہ وہی امریش سائیکل کے کیرئیر پر سٹیل کے برتن لئے شہر میں گھر گھر پھیرے لگارہا ہے کہ کوئی ایک دو برتن خریدے اور اس کی کچھ کمائی ہو۔ اس کی بیوی کنٹریکٹ پر ریڈیو کشمیر کے ایک پروپیگنڈا پروگرام میں منوہر پروتی کے ساتھ حصہ لیتی رہی۔ شاید اسی لئے کسی شاعر نے کہا ہے   ؎
اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
 سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے 
موئے مقدسؐ کی گمشدگی پر عوامی تحریک کے دوران ایک مشتعل ہجوم نے اس سنیما ہال کو آگ لگادی تھی۔ اس موقع پر ایک ایس پی نے اپنے ریوالور سے فائر کرکے ایک آدمی کو ہلاک بھی کیا تھا۔
میں نے ایک کہانی لکھی جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کو اپنے محل خانے کے پردے کچھ عجیب قسم کے بنوانے کا شوق چرایا۔ چنانچہ اس نے سپہ سالار کو حکم دیا کہ میں اپنے محل خانے کے پردے انسانی پوست کے لگانا چاہتا ہوں، اس لئے تم لوگوں کی کھالیں اُتارو تاکہ اسی کے پردے میرے محل خانے میں لگائے جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا جاتا ہے مگر یہ جلد ہی گھس جاتے ہیں کیونکہ رعایا غریب ہے، انہیں کھانے کو صحیح غذا نہیں ملتی، اس لئے ان کی کھالیں کمزور ہیں۔ اب بادشاہ یہ حکم دیتا ہے کہ ہر روز لوگوں کے پوست اُتارا کرو تاکہ محل خانے کے پردے روز بدلائے جاسکیں۔ پھر روز ہی ایسا کیا جاتا ہے۔ جب لوگ بے پوست کے رہ جاتے ہیں تو ان کے بدن سے بدبو اٹھنی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ شدید قسم کی بدبو پھیلنے لگتی جس سے سر کاری فوج مرنا شروع ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر لوگ بہت خوش ہوتے ہیں کہ ہماری بدبو ہی ہمارا ہتھیار اور ہماری نجات کا وسیلہ بن گئی۔ وہ بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ بادشاہ کے سارے فوجی، درباری اور خاندان کے افراد مرجاتے ہیں مگر بادشاہ نہیں مرتا۔ یہ لوگ بادشاہ کے نزدیک بھی جاتے ہیں مگر اس پر یہ بدبو کوئی اثر نہیں کرتی۔ اب کہانی کو اس موڑ پر لاکر میں رُک گیا۔ مجھے کچھ سجھائی ہی نہیں دے رہا تھا کہ بادشاہ کو کیسے مارا جائے، پھر ایک دن میں نے یہ کہانی کشمیر کے معروف اور بہترین افسانہ نگار ہری کرشن کول کو سنائی اور اس کہانی کے اختتام کے صلاح مانگی مگر انہوں نے جو صلاح دی وہ مجھے نہیں بھائی۔ پھر اختر محی الدین صاحب کو کہانی سنائی اور اس کہانی کے اختتام کے لئے مشورہ مانگا۔ انہوں نے جو مشورہ دیا وہ بھی مجھے کچھ زیادہ جچا نہیں۔ پھر یہ کہانی کشمیر کے معروف افسانہ نگار ہردے کول بھارتی کو سنائی۔ انہوں نے اس کہانی کے اختتام کے لئے جو تجویز دی وہ سن کر میں اُچھل پڑا اور وہی پھر اس کہانی کا اختتام بنا، یعنی بے پوست لوگوں میں ایک بوڑھا محل خانے سے باہر جاتا ہے اور وہاں کے چمن سے ایک پھول لے کے آتا ہے اور وہ پھول بادشاہ کی ناک کے قریب کردیتا ہے۔ بادشاہ اسے سونگھتا ہے اور دھڑام سے گرکر مرجاتا ہے۔ پھر بوڑھا لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ جو بدبو سے نہیں مرتا اُسے خوشبو ماردیتی ہے۔ ساہتیہ اکادمی والوں نے کشمیری افسانوں پر مشتمل اینتھولوجی چھاپی اس میں یہ کہانی شامل کردی گئی۔ یہ کہانی پڑھ کر ایک نامعلوم شخص نے مجھے کہا تھا: یہ معاملہ تو ہمارے شیخ صاحب کے ساتھ بھی ہوا، جیل کی سزائیں، جلا وطنی، سختیاں اس کو ہلا نہ سکیں مگر پھر اقتدار سے انہیں ہرایا گیا، سچ ہےجو بدبو سے نہیں مرتا وہ خوشبو سے مارا جاسکتا ہے۔ میں اس نامعلوم شخص کی اس تفسیر اور تجزیہ سے بہت حیران ہوا تھا۔ ایسی تفسیر اور تجزیہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ 1988ء میں کشمیر میں جنگجوئیت شروع ہوئی، بم دھماکے ہونے لگے اور کہیں کہیں فائرنگ کے اکا دکا واقعات بھی۔ شروع شروع میں عام لوگوں میں یہی تاثر تھا کہ اس کے پیچھے حکومت ہند کا ہاتھ ہے کیونکہ ایسی غیر متوقع وارداتیں کشمیر میں پہلی بار ہورہی تھیں۔ ایک دن میں نے اس معاملے پر اختر محی الدین صاحب سے بات کی تو ان کا بھی یہی خیال تھا۔ یہ 1988ء کے آخری مہینے یا 1989ء کے ابتدائی مہینے کی بات ہے جب مفتی محمد سعید نے اپنے دفتر واقع کورٹ روڈ میں ایک پریس کانفرنس بلائی۔ ان دنوں وہ بھارت کے سابق وزیراعظم وی پی سنگھ کی جن مورچہ پارٹی سے وابستہ تھے۔ معروف صحافی یوسف جمیل صاحب نے مفتی محمد سعید سے سوال کیا:
Some people say these bomb blasts are engineered by you   یوسف جمیل صاحب کے اس سوال کا جواب مفتی محمد سعید نے گول مول دیا تھا، نہ ہی اقرار کیا تھا اور نہ ہی انکار۔
جولائی 1984ء میں ریاست جموں و کشمیر کی وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے سے پہلے جب نیشنل کانفرنس اندرونی انتشار کا شکار تھی اور یہ بات گشت کررہی تھی کہ نیشنل کانفرنس کے اسمبلی ممبران کی ایک خاصی تعداد کی شاہ صاحب کو درپردہ حمایت حاصل ہے اور وہ کانگریس کی مدد سے حکومت بنانے والے ہیں، انہی دنوں انہوں نے براڈوے ہوٹل سری نگر میں ایک پریس کانفرنس بلائی اور دعویٰ کیا کہ میرے ساتھ نیشنل کانفرنس کے 16 ؍ممبران اسمبلی ہیں۔ اس پر ایک مقامی روزنامے کے نوجوان صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ حضرت ان 16 ؍ممبران کے نام تو بتائے؟ یہ سوال سن کر شاہ صاحب نے اپنا منہ اس صحافی کی جانب کیا اور پوچھا:ترپھ چھتا گیوندمت؟‘‘ پھر ساتھ ہی کہا:تتھ منز چھنہ وننہ یوان مے نش کس پوٹ چھ (یعنی پوچھاکیا تاش کا تُرپھ کھیل کبھی کھیلا ہے؟ پھر ساتھ ہی کہا اس میں یہ ظاہر نہیں کیا جاتا کہ میرے پاس کون سے پتے ہیں)
1984ء میں ہم نے ادب کے فروغ اور ادبا کے تحفظ کے تعلق سے ایک انجمن بنائی جس کا نام ’’رائیٹرس ایکشن کمیٹی ‘‘تھا۔ میں اس کا چیرمین بنا تھا اور اقبال فہیم جنرل سیکریٹری تھے۔ پریمی رومانی صاحب اس تنظیم کے سیکرٹری تھے۔ ’’واد‘‘ میگزین کے وجود میں آنے کے بعد وہ تنظیم باقی نہ رہی۔1986ء میں جب غلام محمد شاہ کی سرکار برخواست کی گئی اور پھر کچھ وقت گورنر راج کے نفاذ کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو عبوری وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو انہوں نے براڈوے ہوٹل کے نزدیک واقع اپنے پرائیویٹ آفس، جسے غالبا ًبنکٹ ہال بھی کہا جاتا تھا، یہاں کے معروف ادیبوں کی میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں کشمیر کے تمام چیدہ چیدہ قلم کاروں نے شرکت کی، جن میں رحمان راہی، علی محمد لون، قیصر قلندر (جو ریڈیو کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے تھے)، بنسی نردوش، محمد یوسف ٹینگ، مجید عاصمی، م ح ظفر، اقبال فہیم، محمد زماں آزردہ، بشیر اختر، ہردے کول بھارتی، ہری کرشن کول، غلام نبی فراق، رفیق راز، غلام نبی خیال، فاروق نازکی، امین کامل، وغیرہ شامل تھے۔ احقر کو بھی دعوت دی گئی تھی اور میں بھی اس میٹنگ میں شریک تھا۔ تاہم ڈاکٹر فاروق سے کچھ ناراضگی کے سبب اختر محی الدین نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ ڈاکٹر فاروق نے شرکاء سے پوچھا بھی:محی الدین چھنا آمت؟( کیا محی الدین نہیں آیا ہے؟)
یہ میٹنگ اس لئے بلائی گئی تھی کہ کشمیری زبان کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر کچھ بات چیت کی جائے۔ ہر شخص کے سامنے مائک لگی تھی اور ہر شخص سے کہا گیا کہ وہ خود ہی ڈاکٹر فاروق سے اپنے آپ کو متعارف کرائے۔ ہر کوئی اپنے حوالے سے مختصر الفاظ میں تعارف کرانے لگا اور کسی کسی نے کشمیری زبان کی ترقی کے لئے اقدامات پر اپنے خیالات کا بھی مختصر الفاظ میں اظہار کیا۔ ایک قطار میں پہلی نشست پر قیصر قلندر صاحب تھے، اس کی ساتھ والی نشست پر رفیق راز تھے، پھر م ح ظفر تھے، اس کے بعد اقبال فہیم تھے، اس کے بعد میں تھا۔ میرے مقابل ہال کی دوسری طرف جو قطار تھی، اس میں دیگر لوگوں کے علاوہ علی محمد لون بھی تھے۔ راز صاحب کے اندر میں نے محسوس کیا ہے کہ ان میں صبر کا مادہ کم ہے۔ اب جب کہ قیصر قلندر صاحب کو اپنا تعارف کرانے کی باری آئی تو انہوں نے اس میں بہت وقت لیا۔ وہ کہتے گئے کہ میں نے اتنی کتابیں لکھی ہیں، اتنی کتابوں کا مسودہ تیار ہے، فلاں فلاں موضوع پر تحقیق کی ہے، اتنے سارے مقالے لکھے ہیں، اور اسی نوعیت کی دوسری باتیں۔ ادھر راز صاحب ڈاکٹر فاروق کو کشمیری زبان کے حوالے سے کچھ تجاویز دینے پر بڑے بے تاب نظر آرہے تھے۔ وہ اسی بے تابی میں اپنی نشست سے بار بار اُٹھ کر کچھ کہنا چاہتے تھے مگر قیصر صاحب کے اپنا تعارف جاری رکھنے سے کچھ کہہ نہیں پارہے تھے۔ پھر تھک ہار کر بیٹھ گئے مگر غصہ حاوی تھا۔ آخر جب قیصر صاحب اپنا تعارف مکمل کرچکے اور راز صاحب کو اپنا تعارف دینے کی باری آئی تو وہ اپنی نشست سے اُٹھے اور ڈاکٹر فاروق سے نہایت آہستگی سے مگر بھرپور طنزیہ موڈ میں کہا:حضرت لیکھان چھس بتہ مگر (قیصر صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ بلایے نہ!‘‘ یہ سن کر پورا ہال کھل کھلاکر ہنس پڑا۔ راز صاحب کی بات کا اردو ترجمہ یوں ہوسکتا ہے:حضرت!قلم کار تومیں بھی ہوں مگر اس بلا کا نہیں!‘‘جب میری باری آئی تو میں نے اتنا کہا کہ حضرت میرا نام نذیر جہانگیر ہے اور کبھی کبھی میرا بھی لکھنے کا شغل رہتا ہے۔ اس پر علی محمد لون صاحب نے فقرہ کسا:گو نا کیجول رائیٹر۔
شاعر ہو یا فکشن رائیٹر میرے خیال میں شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو کسی نہ کسی چکر میں گرفتار نہ رہا ہو۔ یہاں کے اکثر چھوٹے بڑے ادیبوں کے ساتھ بھی ایسے قصے مشہور ہیں مگر اب ان کا چرچا کرنا اخلاق اور تہذیب کے بھی خلاف ہے اور دین بھی اجازت نہیں دیتا۔ خیر ایک دفعہ ایک دوست نے کسی بات پر مجھ سے کہا: بھائی !دنیا میں پیسوں سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے۔ پھر ساتھ ہی کہا پیسوں سے میرا مطلب سو دو سو روپے نہیں ہیں۔ ہر عورت مرد کی کمزوری نہیں بنتی ، یہ محض شکل وصورت ہی نہیں جو عورت کی کشش کا باعث بنےبلکہ عادات، فہم وفراست، دلیری، صحت مندی، احسان وغیرہ بھی وہ اوصاف ہیں جن سے  عورت کی جانب مرد کی رغبت بڑھتی ہے۔ مرد ہو یا عورت، گدڑی میں لپٹا ہوا بھکاری ہو یا حریر ودیبا میں ملبوس بادشاہ، گنا ھ گار بندہ ہو یا عبادت گزار زاہد، ہر کوئی یک طرفہ محبت کرنے میں آزاد ہے، اور اس یک طرفہ محبت کا دروازہ توبہ کے دروازے کی طرح تب تک کھلا رہتا ہے جب تک انسان موت کے فرشتوں کو نہ دیکھے مگر عام طور انسان نے بدکاری کو ہی محبت کی منزل بنادیا۔ ویسے حقیقی مرد کا درجہ اس شخص کو حاصل ہے جس کے دل پر سب سے زیادہ اپنے مولیٰ کی محبت حاوی ہو۔ اگر ایسا مقام کسی عورت کو بھی حاصل ہوگا تو وہ مرد پارسا کے ہی زُمرے میں ہے۔ یا اللہ یہ مقام مجھے بھی عطا کردے!۔ 