ہڑتال پر بیٹھے پی ایم پیکیج کے کشمیری پنڈت ملازمین ستمبرکی تنخواہیں روکنے کے سرکاری احکامات صادر

بلال فرقانی

سرینگر//مشتعل کشمیری پنڈت ملازمین ، جو وادی سے باہر محفوظ مقامات پر منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جموں و کشمیر انتظامیہ نے ان کی تنخواہوں کو روکنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔یہ ملازمین اس سال مئی سے دھرنا دے رہے ہیں جب ایک ملازم راہول بھٹ کو وسطی کشمیر کے بڈگام میں ان کے دفتر کے اندر دن دھاڑے ملی ٹینٹوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔کشمیر کے محکمہ محنت اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اننت ناگ نے بدھ کے روز وادی میں ہڑتال کرنے والے کشمیری مہاجر ملازمین کی تنخواہیں روکنے کے احکامات جاری کئے ۔اپنے حکم میں ڈپٹی لیبر کمشنر (ڈی ایل سی)کشمیر احمد حسین بٹ نے وادی کشمیر کے تمام اضلاع کے اسسٹنٹ لیبر کمشنروں کو ان ملازمین کی ستمبر کی تنخواہیں روکنے کی ہدایت کی۔

 

بٹ نے محکمہ کے تمام ملازمین کے چھٹیوں کے اکانٹس طلب کیے اور کہا”اس کے علاوہ، ستمبر 2022 کے مہینے کی تنخواہ ان پی ایم پیکیج ملازمین کے سلسلے میں نہیں نکالی جانی چاہیے، جو ستمبر کے مہینے میں غیر حاضر رہے ہیں۔” اسی طرح کا حکم اے ڈی سی اننت ناگ نے بھی جاری کیا ہے۔2012 میں وزیراعظم کے خصوصی پیکیج کے تحت 3000 کشمیری پنڈت نوجوانوں کو نوکری دی گئی تھی۔احکامات پر برہم، ہڑتالی ملازمین نے اپنی ایجی ٹیشن کو تیز کر دیا، جو جمعرات کو 133ویں دن میں داخل ہو ئی، اور اس حکم کو ہراساں کرنے اور اپنی ایجی ٹیشن کو توڑنے کے لیے بازو مروڑنے والا اقدام قرار دیا۔’بھارت ماتا کی جئے’، ‘وی وانٹ جسٹس’، اور ‘وی وانٹ ری لوکیشن’ کے نعروں کے درمیان، سیکڑوں ملازمین نے آل مائیگرنٹ (بے گھر) ایمپلائیز ایسوسی ایشن کشمیر کے بینر تلے احتجاجی مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا”یہ کمیونٹی کو ہراساں کرنے کی طرف ایک قدم ہے، یہ ہمارے خلاف ایک سازش ہے‘‘۔ایک ملازم نے کہا، “ہمارا جرم کیا ہے؟ ہم نے دس سال تک اکثریتی برادری کے بچوں کو انتہائی خلوص کے ساتھ پڑھایا، ہمیں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مارا جا رہا ہے”۔ملازمین کا کہنا تھا کہ ایک طرف انہیں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں والے خطوط مل رہے ہیں اور دوسری طرف انہیں کام پر آنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے اور عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے بیٹھی بطخ بننے کا خطرہ ہے۔”براہ کرم ہمیں سیکیورٹی فراہم کریں جو آپ کا اولین فرض ہے۔ آپ ہمیں ان احکامات سے کیوں ڈرا رہے ہیں؟ ہم اپنی تنخواہیں روکنے یا کسی اور چیز سے نہیں ڈرتے۔ اگر ہماری جان کو خطرہ ہوا تو ہم نوکریاں چھوڑ دیں گے،” ۔