سرینگر// شہری ہلاکتوں، جامع مسجد کے اندر شلنگ کرنے ،جنوبی کشمیر میں میوہ باغات کی کٹائی،جنگجوئوںکے قبروں کی بے حرمتی اور سالہاسال نے نظر بند قیدیوں کی مسلسل اسیری کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے پیش نظر شمال و جنوب عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔ پولیس نے محمد یاسین ملک کو حراست میں لیا اور میرواعظ عمر فاروق کوخانہ نظر بند رکھا،جبکہ سید علی گیلانی پہلے ہی قید میں ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جامع مسجد سرینگر میں نمازیوں پر مبینہ شلنگ اور پیلٹ فائرنگ،کاکہ پورہ پلوامہ میں شہری کی ہلاکت اور سمیر ٹائیگر سمیت کئی جاں بحق عساکروں کی قبروں کی بے حرمتی کے خلاف وادی میں ہڑتال کی کال دی دی تھی،جس کے پیش نظر پائین شہر میں بندشیں عائد کی گئیں۔اس دوران وادی کے جنوب و شمال میں مکمل ہڑتال سے زندگی کی نبض رک گئی۔ مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظرمکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ دکان،کاروباری وتجارتی مراکز اور پیٹرول پمپ بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل مسدود ہوکر رہ گئی۔ سرینگر میں مکمل ہڑتال کے دوران عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی،جس کے پیش نظر مصروف ترین بازاروں میں دن بھر الو بولتے نظر آئے۔ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت نہ ہونے کے برابر تھی،جبکہ بیشتر لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیج دی۔گاندربل سے نمائندہ ارشاد احمد کے مطابق ضلع گاندربل میں مکمل طور پر ہڑتال ر ہی ۔ گا ند ر بل ،تولہ مولہ،صفاپورہ،کنگن سمیت دیگر علاقوں میں بھی دوکانیں،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی۔تحصیل کنگن اور تحصیل گنڈ میں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑک پر گاڑیوں کی آمد رفت متاثر رہی ۔ نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق اننت نا گ ،اچھ بل ، ویری ناگ ، ککرناگ عشمقام ،آرونی اورڈورو میں مکمل بند رہا جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔کولگام سے نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کھڈونی ،کیموہ ،یاری پورہ ،دیوسر ،قاضی گنڈ اور دھدمحال ہانجی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی اور فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ پلوامہ،پا نپور، کھریو، شوپیان، ترال، اونتی پورہ ، پلوامہ ،لاسی پورہ شاہورہ ا ور کاکہ پورہ وغیرہ کے مقامات پردکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر ہوکر رہ گئی تھی ۔ ضلع پلوامہ اور شوپیاں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے خاموشی چھائی رہیں۔ نامہ نگار غلام محمد کے مطابقسوپور میں فورسز اور پولیس کی اضافی کمک تعینات کی گئی تھی ۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔ نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈ ی پور ہ ،سمبل ،حاجن،صدر کوٹ بالا اور دیگر مقا ما ت پر ہڑ تال کی وجہ سے عام زند گی متا ثر رہی جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے ۔کپوارہ سے اشرف چرا غ نے اطلاع دی ہے کہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی تاہم ٹریفک کی نقل و حمل جزوی طور معطل رہی ۔ضلع کے ہندوارہ ،کپوارہ ،ترہگام ،کرالہ پورہ اور دیگر مقامات پر دکانیں بند رہیں اور کارو باری ادارے بند رہے تاہم پورے ضلع میں ٹریفک کی نقل و حمل بھی جزوی طور طور معطل رہی ۔ اس دوران لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو پولیس نے سنیچر صبح مائسمہ رہائش گاہ سے حراست میں لیا،تحریک حریت کے عمر عادل کو بھی جمعہ رات کو پولیس نے گرفتار کر کے نوگام تھانہ میں بند رکھا۔ میر واعظ عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی کانہ نظر بند رہیں،جبکہ سید علی گیلانی پہلے ہی رہائشی طور پر نظر بند ہے۔ہڑتال کال کے پیش نظر بانہال سے جموں چلنے والی ریل سروس کو بھی سنیچر کے روز معطل کیا گیا،جبکہ سرینگر اور بڈگام اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھا گیا۔