۱۹۴۷ء میں متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان نام کا ایک اورملک معرضِ وجود میں آیا۔ اب ہم ان دونوں ملکوں کو اختصارکے ساتھ ہندوپاک کہتے ہیں ۔ملک کی یہ تقسیم فقط زمین اور جائداد کی تقسیم نہ تھی بلکہ یہ تہذیب، ثقافت، اخوت، یگانگت، زبان، ادب، عقائد،رواج، نظریات، پیار ،محبت اور دلوں کی تقسیم تھی۔ہم اسے انسان دوستی،محبت اور امن کی تقسیم بھی کہہ سکتے ہیں۔بالاجمال یہ متحدہ ہندوستان کے مشترکہ تہذیبی اورثقافتی سرمایے اورخونی رشتوں کی تقسیم تھی جس کی تہہ میں سیاست ،اقتدار کی رسہ کشی ، منافرت، ناعاقبت اندیشی اور مذہبی جنون کی کارفرمائی رہی ہے۔میں یہاں ہند وستان اور پاکستان کے مشترکہ تہذیبی اور ثقافتی سرمایے کے تعلق سے فیض احمد فیض کے شعر ی مجموعہ ’’زنداںنامہ‘‘ کے بارے میں ’رودادِ قفس‘ کے عنوان سے میجراسحق کی تحریر سے ایک اقتباس پیش کرکے اس حقیقت کا اظہار کرناچاہوں گا :
’’ملکوں کی سیاسی واقتصادی حدیں وقت کے مطابق بدلتی رہتی ہیںلیکن ایک خطۂ زمین کے کلچر،زبان ، ادب،آرٹ،موسیقی،فنِ تعمیراور دوسری ثقافتی قدروں کا قِوَام سیکڑوں ہزاروںسالوں کی ریاضت کے بعد تیار ہوتا ہے اوراس کی بنیادی ترکیب میںتبدیلی آسان نہیں ہوتی۔پاکستان اور ہندوستان میں سیاسی دھینگا مشتی کیسی بھی صورت اختیار کرجائے دِلّی،لکھنؤ،حیدرآباداور لاہور کی گنگا جمنی تہذیبیں اپنی جگہ قائم رہیں گی اور میر اور غالب میں سب کی سانجھ رہے گی۔ ہندوستانی اور پاکستانی تہذیبوں کے درختوں کی جڑیں موہنجودھارو،گیا،ہرش پور،گندھارا، ٹیکسلا،متھرا، بنارس،اجنٹا، اجمیر، قطب مینار،تاج محل،جامع مسجد،شالامارہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں۔شاخوں میں کہیں سمرقند و بخارااورکہیں عرب وعجم سے آئے ہوئے پیوند اپنی بہار دکھا رہے ہیں اور کہیںپراچین ڈ الیںجوں کی توں قائم ہیں۔دوسرے کی ضد میںجڑوں کو نقصان پہنچانا یا شاخوں کی نوچ کھسوٹ کرنااپنے پائوں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے‘فیض صاحب اُن انسانیت نواز روایات سے تعلق رکھتے ہیں جوہزاروں سالوں سے دونوں ملکوں کا خاصہ رہی ہیں ۔وہ اسی سلسلے کی کڑی ہیں ،جسے امیرخسرو،بھگت کبیر،خواجہ معین الدین چستی،بابانانک،بابا فرید،ابوالفضل ،فیضی،بُلھے شاہ،وارث شاہ،شاہ عبداللطیف بھٹائی،رحمان بابااوردوسرے بہت سے بزرگوں نے فیض بخشا ہے ‘‘
میجراسحق کے یہ خیالات اگرچہ فیض احمد فیض کی شاعری کے بارے میں ہیں لیکن ان کااطلاق ہند وپاک کے ہر اُس کی شاعراور ادیب پر ہوتا ہے جو شعروادب کی تخلیق میں منہمک یافنون ِلطیفہ کے کسی شعبہ سے وابستہ ہے یا آئندہ رہے گا ۔اس بات کی توضیح یوںکی جاسکتی ہے کہ ایک شاعر،ادیب اور فن کار چوں کہ ہمارے اسی سماج کا فرد ہوتا ہے اس لیے وہ حال کو ماضی سے پیوست کرکے جو کچھ اخذ کرتا ہے اسے اپنے وجدان میںڈھال کر حال کی وساطت سے مستقبل سے مربوط کرتا ہے یا آنے والوں کی آگہی کے لیے مواد اور اسباب فراہم کرتا ہے ۔ہندوپاک کے ادبأاورشعرأاس کلیے سے کسی طورپربھی مبّرا نہیں ہیں ۔چنانچہ جب ہم ہندوپاک کے اردوادب میںانسان دوستی ،محبت اورامن کے پیغام کی بات کرتے ہیں تو یہ پیغام کسی نہ کسی طو رپر ہربڑے ادیب اور شاعرکی تخلیقات میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔
جہاں تک زیرِ بحث موضوع کے پہلے جُز کا تعلق ہے یہ ہندوپاک کے اردوادب سے متعلق ہے جو بظاہرنظم اورنثر کی تمام اصناف کااحاطہ کرتا ہے جب کہ اس موضوع کا دوسرا جز، ہند وپاک کی نظم ونثر کی اِن تمام اصناف میں، انسان دوستی،محبت اور امن کی نشان دہی کا متقاضی ہے۔اس اعتبار سے’’ ہند وپاک کے اردو ادب میں انسان دوستی،محبت اور امن کا پیغام ‘‘کافی وسیع اور کثیرالابعادموضوع ہے ۔جہاں تک انسان دوستی اور محبت کا تعلق ہے ان میں سے محبت کواوّلیت حاصل ہے۔یہ ایک ایسا لطیف اور پاکیزہ جذبہ ہے جس سے اللہ نے صرف انسان کو سرفرازکیاہے ۔یہ باعثِ تخلیق ِکون ومکان ، آدم اور اولادِ آدم ہے،میر دردؔ نے کیا خوب کہا ہے ؎
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
محبت بے لوث ہوتی ہے اور مثبت قوت کو جنم دیتی ہے ۔یہ انسان کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ حقیقی محبت جنون نہیں باعث سکون ہوتی ہے جوایک انسان کودوسرے سے جوڑ نے کی قوت عطا کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے محبت کے قرینوں میں ادب کوپہلا قرینہ قرار دیا ہے ؎
خموش ،اے دل بھری محفل میں چلّانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
محبت کی انتہا عشق ہے جبھی تومیر تقی میر یوں کہتے ہیں ؎
دور بیٹھا غبارِ میراُس سے
عشق بِن یہ ادب نہیں آتا
گویا محبت اورعشق ایک جذبہ ہے جس سے زندگی نمو پاتی ہے۔محبت زندگی ہے جو نہ صرف محبت ہی کو جنم دیتی ہے بلکہ انسان کے اندروہ قوت بھی پیدا کرتی ہے جس سے دلوں کا زنگ دور ہوتا ہے ۔جب محبت بالیدہ ہوجاتی ہے تو اس کی نگاہوں میںساری دنیا محبوب بن جاتی ہے ، غالب نے نہ جانے کیوں اسے دماغ کا خلل کہا ہے ؎
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیںجس کو عشق خلل ہے دماغ کا
لیکن پھراعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں ؎
سو بار بندِعشق سے آزاد ہم ہوئے
پرکیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
انسانیت اور انسان نوازی کے سوتے محبت ہی کے سر چشمہ سے پھوٹتے ہیں ۔ سائنس دانوں کاخیال ہے کہ محبت ہرذی روح میں موجود ہے لیکن طبی ماہرین اسے دماغ کے ایک مخصوص حصے میں رونما ہونے والی کیمیائی تبدیلی کا نام دیتے ہیں۔ طب یونانی محبت کو دیوانگی کہتا ہے جبکہ نفسیاتی ماہرین اسے فقط عورت اور مرد کے مابین موجود فطری کشش قرار دیتے ہیں۔ سماجی مہاہرین اسے صنف مخالف سے محبت کے سوا تمام محبتیں معاشرے اور ماحول کے تقاضوں ،ضرورتوں اور ان کے اثرات کے تابع گردانتے ہیں۔ علاوہ ازیں محبت کی جو مختلف حالتیںہیںاُن میں اللہ، رسولﷺ، رشتہ دار ،احباب واقارب، ملک اورشہر وغیر ہیں۔
ہم دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب کا مطالعہ کیوں نہ کریںاُن کا بیش تر ادب، محبت ، عشق ،انسان دوستی ، عالمی امن، بھائی چارہ، میل جول ، انسانی مسائل اورمعاملات سے ہے۔اسکے علاوہ بھی جو ادب وجود میں آتا ہے وہ انسان کے تہہ درتہہ سیاسی ، معاشی ،معاشرتی ، اقتصادی،مذہبی مسائل اور اس کے اپنے و جود کے اظہار سے متعلق ہے لیکن اس حقیقت سے سرِموانحراف نہیںہے کہ شعروادب کا غالب حصّہ بالخصوص برصغیر ہندو پاک کا اردو ادب انسان دوستی ،محبت اور امن کاعکاس وترجمان ہے بلا شبہ سیاسی نا معقولیت کی وجہ سے مسلسل روڑے اٹکائے جاتے ہیں لیکن ایک ادیب اور شاعر کاکام تومحبت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ محبت جس کی انتہا عشق ہے اور عشق جس کی انتہا انسان دوستی اور امن ہے مگرادیب کواس کی پرواہ نہیں ہے کہ اہل سیاست کیا کرتے ہیں اورکیا کہتے ہیںاس کا کام تو محبت کا پیغام دینا ہے جو بقول جگر مراد آبادی جہاں تک پہنچے: ؎
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
بہر کیف میں یہ بات ابتدأمیں ہی کہہ چکا ہوں کہ ہندوپاک کے ادبأ اور شعرأ کی تخلیقات میں انسان دوستی، محبت اورامن کا پیغام بدرجۂ اتم موجود ہے اور میں نے اس تعلق سے’مشتے نمونہ از خِروارے ‘ کے مصداق برصغیر کے صرف تین شاعروں، ساحرلدھیانوی،احمد فراز اور علی سردارجعفری کی منظومات کا ایک اجمالی جائزہ پیش کرنے پرا کتفا کیا ہے ۔ ہندوستان اورپاکستان کے ادبأ اور شعرأ کی تخلیقات میں انسان دوستی، محبت اورامن کے پیغام کی عکاسی ساحرلدھیانوی کی نظم ’اے شریف انسانو!میںبڑے فنکارانہ انداز میں کی گئی ہے۔
ساحرؔ لدھیانوی کااصلی نام عبدالحیٔ تھا ۔وہ ۸؍مارچ ۱۹۲۱ء کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ۲۵؍اکتوبر۱۹۸۰ ء کو۵۹ سال کی عمر میںممبئی میں وفات پائی۔وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔انہوں نے فلموں کے لیے کافی گیت لکھے۔اُن کا شعری مجموعہ ’تلخیاں‘ جذباتی،رومانی اورانقلابی شاعری کا امتزاج لیے ہوئے ہے۔اس کی اشاعت سے ساحر کوکافی مقبولیت حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ ’پرچھائیاں‘’گاتاجائے بنجارہ‘ ، ’تنہائیاں ‘،’آئوکوئی خواب بُنیں ‘اُن کے قابل ذکر شعری مجموعے ہیں۔ فلمی دنیا سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں کئی فلم فیئر انعامات دیے گئے جب کہ۱۹۷۱ ء میں انہیں پدم شری کے قومی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ تاج محل، نور جہاں کے مزار پر،قحطِ بنگال،جاگیر اوراے شریف انسانو!ا ُن کی بہترین منظومات ہیں۔
بہر کیف’’ اے شریف انسانو!‘‘ ساحر ؔلدھیانوی کی ایک اہم نظم ہے جو انہوں نے اگرچہ ہندوستان اور پاکستان کی ۱۹۶۵ ء کی جنگ کے پس منظر میں کہی ہے اورپھر ۱۰ ؍جنوری ۱۹۶۶ ء کوجب دونوں ملکوں کے درمیان معاہدۂ تاشقند وجود میں آیاتواس کی سال گرہ کے موقع پریہ نظم نشر بھی کی گئی تھی لیکن ہند وپاک کے اردو ادب میں انسان دوستی ،محبت اور امن کے پیغام کے تعلق سے بلا شبہ یہ ایک اہم نظم ہے جس کی اہمیت ، افادیت اور تازگی ابدی اور لازوال ہے۔یہاںاس نظم کے کچھ بندپیش کیے جاتے ہیں:
اے شریف انسانو!
خو ن اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں ہو
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پہ گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لیے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سب کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
(۲)
بر تری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاںمٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
جنگ کے اور بھی تومیداں ہیں
صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں
حاصل ِ زندگی خرد بھی ہے
حاصل ِ زندگی جنوں ہی نہیں
آئو اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کااہتمام کریں
جنگ ،وحشت سے بربریّت سے
امن، تہذیب و ارتقا کے لیے
جنگ،مرگ آفریں سیاست سے
امن،انسان کی بقا کے لیے
جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ ، بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمایے کے تسلط سے
امن،جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پُر امن زندگی کے لیے
نظم کے آخری چار بند برصغیر ہندوپاک کے سیا ست دانوں ،پالسیی سازوں، دانشوروں ، اربابِ بست وکشاد اوربالخصوص عالمی سطح پر اقوامِ عالم کے صاحب الرّائے مدبرین اورمفکرین کے لیے نہ صرف چشم کشا ہیں بلکہ دعوتِ فکر و عمل بھی دیتے ہیں کہ جنگ کے میدان سرحدو ں پر کشت وخون بپا کرنے کے علاوہ اور بھی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی عام کریںاورایسی جنگوں کااہتمام کریں جن سے امن کو تقویت ملے ۔صاحب ِاقتدار اور اختیار کو چاہیے کہ وہ وحشت ،بربریت اورمرگ آفریں سیاست کے خلاف معرکہ آرائی کریں کیوں کہ تہذیب کے ارتقااورانسان کی بقا کے لیے امن کی سخت احتیاج ہے جب کہ جنگ ان کے لیے سم قاتل ہے ۔ اے شریف انسانو!اگر جنگ لڑنالازمی ہے تویہ افلاس ، غلامی،بھٹکی ہوئی قیادت،سرمایے کے تسلط اور جنگوں کے فلسفے کے خلاف لڑی جائے تاکہ بہتر نظام،بے بس عوام ،جمہور کی خوشی اور پُر امن زندگی کی خاطرامن کا حصول آسانی سے ممکن ہو۔ساحر کی یہ نظم جنگ کے خلاف احتجاجی دستور اورامن کے حق میںاحتیاجی منشور کی حیثیت رکھتی ہے ۔
ساحرؔ لدھیانوی کی ایک او رطویل نظم ’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘اِس اُمیدکا احساس دلاتی ہے کہ وہ صبح کبھی تو آئے گی جب انسا ن کی چاہت کوکچلا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کی غیرت بیچی جائے گی ۔ اس صبح ،دولت کی اجارہ داری کے بت مسمار ہوں گے ، ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گی اورجیلوں کے بناسرکار چلائی جائے گی ۔ محبت ، انسان دوستی ، امن اور خوش حالی کے خوش آیند اورپُر امیدجذبات سے مملویہ نظم ان امید افزامصرعوںپر ختم ہوتی ہے ؎
دنیاامن اور خوش حالی کے پھولوں سے سجائی جائے گی
وہ صبح ہمیں سے آئے گی
نوٹ :یہ مضمون ہند پاک رشتوں کے پس منظر میں اُردو ادب کی انسان دوستی،محبت اور امن کے پیغام کو اُجاگر کر نے کی ایک کوشش ہے۔(پ م ا)
فون نمبر9419194261
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)