نئی دہلی//بھارت اور چین نے جمعہ کوحقیقی کنٹرول لائن پرمشرقی لداخ کے باقی ماندہ علاقوں اور پینگانگ جھیل کے شمال وجنوب کے کناروںسے فوجوں کی واپسی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس دوران دونوں طرفین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عبوری طور زمینی سطح پراستحکام کوبرقرار رکھاجائے گااور کسی بھی ناخوشگوارواقعہ کو پیش آنے نہیں دیا جائے گا۔یہ مذاکرات ہندچین سرحدی معاملات پرمشاورت اور تال میل کے ورکنگ میکنزم کے فریم ورک کے تحت ہوئے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں طرفین نے اتفاق کیا کہ باہمی رابطوں اور مذاکرات کو سفارتی اور فوجی سطح پربرقرار رکھاجائے گااورفوجی سطح کی بات چیت کے گیارہ ویں دور کو منعقد کرنے کی حامی بھرلی۔ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں طرفین کو باہمی طور قابل قبول حل تک پہنچنے کیلئے مذاکرات کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ بلاتاخیر تنازعہ کے مقامات سے فوجوں کو واپسی ممکن ہو۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس دونوں اطراف فوجوں کی واپسی پر کام کرنے کے قابل ہوجائیں گے اورامن اورشانتی کو سرحدی علاقوں میں بنائے رکھنے پر توجہ مرکوزکریں گے۔دونوںاس بات پر بھی متفق تھے کہ زمینی سطح پر عبوری طور استحکام کو بنائے رکھاجائے گااور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کوپیش آنے نہیں دیاجائے گا۔ وزارت خارجہ نے مزیدکہا کہ بھارت اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ماسکو میں گزشتہ ستمبر کوہوئے معاہدے اور اس سال فروری کا فون رابطہ دونوں اطراف کام کرنے کی رہنمائی کرناچاہیے۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں نے مشرقی لداخ می حقیقی کنٹرول لائن پرصورتحال کاجائزہ لیااور باقی ماندہ معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پینگانگ جھیل کے شمال وجنوب کناروں سے فوجوں کی مکمل واپسی سے اتفاق کیا ۔ بھارتی وفد کی قیادت وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری (مشرقی ایشیاء) کررہے تھے جبکہ چینی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل سرحدی وسمندری محکمہ کررہے تھے۔