سرینگر//دفاعی سازوسامان کے امریکی محققین نے ’’ہندوپاک کے درمیان جنگ کوتباہ کن ‘‘قراردیتے ہوئے خبردارکیاہے کہ دونوں ممالک اپنی ایٹمی طاقت کا آدھا حصہ بھی استعمال کریں گے توکروڑوں لوگ فوری طور پر موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔انہوں نے اس کیساتھ ہی متنبیہ کیاکہ نیوکلیائی جنگ کی صورت میں’’ اوزون لئیر‘‘ کا آدھا حصہ مکمل تباہ ہو جائیگا ۔ دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اِسکی لپیٹ میں آجائیگی اور نیو کلیر بارشوں کو وجہ سے دنیا بھر کی زراعت اور مون سون سیزن مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جاری سیاسی ،سفارتی اور سرحدی تنائو اور کشیدگی نے اگرخدا نا خواستہ جنگ میں تبدیل ہوگئی ،تو ایک بڑی تباہی ہو گی ،جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ٍ اگر ہندوستان اور پا کستان اپنی ایٹمی طاقت کا آدھا حصہ بھی جنگ میں استعمال میں لے آتے ہیں تو 21ملین لوگ فوری طور پر موت کے منہ میں چلے جائیں گے اور اوزون لئیر کا آدھا حصہ مکمل تباہ ہو جائیگا۔ نیو کلیر بارشوں کو وجہ سے دنیا بھر کی زراعت اور مون سون سیزن مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ جہاں دونوں ممالک میں اس وقت جنگی جنون سوار ہوگیا اور دونوں ممالک ایکدوسرے کو سبق سکھا نے کی باتیں کررہے ہیں ، تو اس صورتحال میں ہم امریکی یونیورسٹیز کے محققین کی طرف سے پیش کردہ وہ حقائق آپ کے سامنے لائیںگے جو اس ممکنہ ایٹمی جنگ کے نتائج کو تفصیلاً بیان کر رہے ہیں تاکہ ایٹمی جنگ کا راگ الاپنے والوں کے ہوش ٹھکانے لانے میں مدد مل سکے۔ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ جنگ اس حد تک بڑھ جاتی ہے تو نقصان اندازے سے کہیں زیادہ ہو گا اور یہ نقصان صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گا۔21 ملین لوگ حملے کے بعد ایک ہفتے کے اندر موت کے منہ میں جائیں گے جو جنگ عظیم2کے دوران مرنے والوں کی تعداد کے دو گنا ہے۔ یہ ریسیرچ 2007 میں رتجر یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف کولریڈو بولڈر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے پیش کی تھی۔ مرنے والوں کی تعداد9 سال میں بھارت کی ٹوٹل اموات کے 2221 گنا زیادہ ہو گی۔ دنیا بھر کے 2 بلین لوگ بھوک اور قحط کا شکار بن سکتے ہیں جس کی وجہ ایٹمی دھماکے کی وجہ سیموسمیاتی تبدیلی پر پڑنے والے اثرات ہوں گے۔ پاکستان میں اس وقت130 کے لگ بھگ ایٹمی وار ہیڈ موجود ہیںجبکہ انڈیا کے پاس ایٹمی وار ہیڈ کی تعداد 120 کے قریب ہے۔ایٹمی جنگ کے بارے میں گفتگو اوڑی میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں 18 بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور بھارت نے حملے کا الزام پاکستان پر ڈال دیا تھا۔پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی کو دیکھتے ہوئے ہم ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اس سے قبل پاکستان کی ایٹمی قوت کی وجہ سے بھارت کبھی پاکستان پر حملے کی جرات نہیں کر پایا۔تجزیہ نگارمنوج جوشی نے ’دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ بھارت جس طرح کا بھی حملہ کرے اسے پاکستان کے برابر ہی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انڈیا کا پاکستان سے کم ایٹمی ہتھیار کا مالک ہونا بھی زیادہ معنی خیز ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حملہ کوئی بھی کرے نقصان دونوں ملکوں کو بھگتنا ہو گا۔پاکستان کی ایٹمی طاقت :پاکستان کے 66 فیصد ہتھیار بالسٹک میزائل پر مبنی ہیں۔66 فیصد ہی نیو کلیر وار ہیڈ کو بالسٹک میزائل پر موجود رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے حتف میزائل کی سیریز ابھی بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پاکستان کے40 بیلسٹک میزائل کو غوری کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔اس میزائل کی رینج 1300 کلومیٹر ہے اور یہ دہلی، جے پور، احمد آباد، ممبئی، پیونے، ناگپور، بھوپال اور لکھنو کو نشانہ بنا سکتا ہے۔پاکستان کے 8 وارہیڈ کو شاہین2 کا نام دیا گیا ہے۔ ان کی رینج2500 کلومیٹر ہے اور یہ انڈیا کے تقریبا ہر شہر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں خاص طور پر کلکتہ شہر قابل ذکر ہے۔16 غزنوی میزائل کے ذریعے سمندر کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میزائیل کی رینج 270 سے 350 کلومیٹر تک ہے۔ یہ لدھیانہ، احمد آباد اور دہلی کے علاقوں کو تباہ کر سکتا ہے۔پاکستان کے پاس 16 نیو کلیر شاہین 1ہیں جو کم رینج کے بیلسٹک میزائل ہیں ان کی رینج750 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ لدھیانہ ااور احمد آباد جیسے علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ 60 کلو میٹر کی رینئج کے نصر میزائل بھی پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں جو نیو کلیر ہتھیاروں کے حملے کے لیے مفید ثابت ہو سکتیہیں۔ یہ میزائل بھارت کے ہتھیاروں کی خاص جگہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔،350 کلو میٹر رینج کے بابر میزائل بھی نیو کلیر وار ہیڈ کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ائیر کرافٹ کے ذریعے پاکستان اپنے28 فیصد وار ہیڈز کو استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی ایف سولہ طیاروں کے ذریعے ایک وقت میں24 جب کہ فرانس کے میراج 111 اور4 میں12 ایٹم بم لے جائے جا سکتے ہیں۔انڈیا کی ایٹمی طاقت:انڈیا کے پاس پرتھوی اور اگنی میزائل کی تعداد56 ہے۔یہ بھارت کے وار ہیڈ کے 53فیصد ہتھیاروں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا نے نیو کلیر وار ہیڈ کے لیے ساگاریکا سبمیرائین بیلسٹک میزائل بھی بنا رکھے ہیں۔ پاکستان کے محدود جغرافیہ کو دیکھتے ہوئے بھارت اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی پر حملے کرے گا۔ بھارت کے نشانے پر پاکستان آرمی کے نوشہرہ ہیڈکوارٹرز بھی ہوں گے۔ لاہور اور کراچی پر ایٹمی حملہ کرنے کی صورت میں بھارت اور افغانستان کے بارڈر پر موجود علاقے بھی بہت متاثر ہوں گے۔250 کلو میٹر کی رینج کا پریتھوی انڈیا کے 24 وار ہیڈز کو لے جا سکتا ہے۔ یہ میزائل پاکستان کے بڑے شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جن میں لاہور، سیالکوٹ، اسلام آباد، اور راولپنڈی شامل ہیں۔ انڈیا کے پاس 20 نیو کلیر نوکدار اگنی1 اور8 اگنی 2 ہیں جن کی رینج 700اور 2000 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل پاکستان کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگنی 3، 4 اور5 بھی پاکستان کے تمام شہروں کونشانہ بنا سکتے ہیں لیکن فی الحال انہیں چین کی طرف موڑ کر رکھا گیا ہے۔ انڈیا کے پاس دھنوش نامی شپ لانچڈ350 کلومیٹر کی رینج والے میزائل بھی ہیں جو نیو کلیو وار ہیڈ کے ساتھ منسلک کیے جا سکتے ہیں۔ انڈیا کا ایئیر کرافٹ ایک وقت میں106 وارہیڈز کو لے جا سکتا ہے۔ انڈین ائیر فورس کے جاگوار فائٹر بامبر16 نیو کلیر وارہیڈز کو لے جا سکتے ہیں۔ فرانس کے میراج2000 کے ذریعے 32 وارہیڈ اٹھائے جا سکتے ہیں۔