جموں//اتوار کو اکھنور سیکٹرمیں بین الاقوامی سرحد پر ہندوستانی اور پاکستانی افواج کے درمیان ہو ئی شدید گولہ باری میں کم از کم 2بی ایس ایف اہلکار ہلاک جب کہ 10شہری شدید زخمی ہو گئے ۔یہ گولہ باری دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری اوپریشنز کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ کی پاسداری یقینی بنانے پر اتفاق ظاہر کرنے کے بعد ہوئی ہے ۔ بی ایس ایف ترجمان منوج یادو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’ صبح سوایک بجے کے قریب پاکستانی رینجرز نے اکھنور سیکٹر میں پرگوال گائوں پربلا اشتعال متعدد چوکیوں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجہ میں دو اہلکار زخمی ہو گئے ، انہیں قریبی ہسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا‘۔ مہلوکین کی شناخت اے ایس آئی ایس این یادو اور کانسٹبل وی کے پانڈے کے طور پر کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کی جانب سے معقول جواب دیا جا رہا ہے ۔ پرگوال، کاہنہ چک، جھڑی، شامہ چک، کھوڑ سمیت اکھنور اور سندر بنی سیکٹر کے سرحدی علاقوں میںفائرنگ کا یہ تبادلہ صبح تک جاری رہا ،جس سے 25اگلی چوکیاں اور 50دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ پرگوال، کاہنہ چک اور کھوڑ میں 10افراد زخمی ہو گئے جن میں ایک پولیس اہلکار اور ایک خاتون شامل ہیں۔ فورسز نے لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی صلاح دی ہے ۔ اے ڈی سی جموں ارون منہاس نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ فائرنگ اور گولہ باری میں 10افراد زخمی ہوئے ہیں انہیں جموں میڈیکل کالج میں بھرتی کروایا گیا ہے ۔ زخمیوں میں سلیکشن گریڈ کانسٹبل ذاکر خان، وکرم سنگھ(34)، رتن سنگھ (28) ، سلکھشنا دیوی (25) ، بنسی لال (40) ، بلویندر سنگھ (22) ، سدھاکر سنگھ (50) اور وکرم سنگھ(34)شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے فائرنگ کی رینج بڑھا دی گئی ہے جس کی وجہ سے املاک اور مال مویشی کو بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں تاہم ابھی تک نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا گیا ہے ۔ دریںاثنا فائرنگ کے تازہ واقعہ سے سرحدی گائوں میں ایک بار پھر دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا، ریلیف کیمپوں سے جو سرحدی مکین اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے ان کا گھروں کو جانا بند ہونے کے علاوہ آر ایس پورہ، ارنیہ ، سانبہ، ہیرا نگر سیکٹر میں انتظامیہ نے لوگوں کومحفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لئے کہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے ہیلپ لائن نمبر جاری کر دئیے گئے ہیں جب کہ متعدد مقامات پر بلٹ پروف بنکر گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں تا کہ متاثرین کو فوری طور پر منتقل کیا جا سکے ۔