یو این آئی
نئی دہلی// ثانیہ مرزا ہندوستانی خاتون ٹینس کھلاڑی ہیں، جوملک کی خاتون کھلاڑیوں میں سب سے کامیاب تصور کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر متعدد تمغے جیت کر ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ وہ سنگلز اور ڈبلز دونوں فارمیٹ میں کھیلنے والی دنیا کی بہترین کھلاڑی ہیں۔ ثانیہ کئی مرتبہ سنگلز اور ڈبلز چیمپئن شپ جیت چکی ہیں۔اپنے دہائیوں کے کیرئیر میں ثانیہ نے ہر موڑ پر خود کو کامیاب ثابت کیا اور کامیاب خاتون ٹینس کھلاڑی بن کر ملک کا نام روشن کیا ۔ثانیہ مرزا 15 نومبر 1986 کو ممبئی میں ایک حیدرآباد مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان سال 1990 میں امریکہ چلا گیا اور دو سال بعد واپس وطن لوٹ آئے۔
ثانیہ کے والد عمران مرزا اسپورٹس جرنلسٹ تھے جو حیدرآباد میں ایک سپورٹس میگزین نکالتے تھے۔ ثانیہ کے والد کا تعلق چونکہ کھیلوں سے رہا لہٰذا ان کی دلچسپی بھی ٹینس کی جانب بچپن سے ہی ہوگئی تھی۔ثانیہ نے صرف چھ برس کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کردیا تھا۔ ثانیہ کے والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو ٹینس کھلاڑی بنائیں گے۔جب ثانیہ 14 برس کی بھی نہیں تھیں تو انہوں نے اپنا پہلا آئی ٹی ایف جیتا تھا۔ 2002 میں ہندوستان کے ٹاپ ٹینس کھلاڑی لیانڈر پیس نے 16 سالہ ثانیہ مرزا کو بوسان ایشیاڈ سے پہلے کھیلتے ہوئے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ وہ ثانیہ مرزا کے ساتھ ڈبلز کھیلیں گے۔ اس کے بعد ثانیہ نے 17 برس کی عمر میں ومبلڈن جونیٔر ڈبلز چیمپئن شپ کا خطاب جیتا۔ثانیہ نے دوحہ ایشین گیمز میں خواتین کے سنگلز مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ سال 2009 میں، وہ گرینڈ سلیم جیتنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون کھلاڑی بنیں۔ انہوں نے یہ ومبلڈن ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کی۔ وہ آسٹریلین اوپن میں ہنگری کی پیٹرا منڈولا کو شکست دے کر کسی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے تیسرے راؤنڈ میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی خاتون کھلاڑی بن گئیں۔