دبئی/سری لنکا کرکٹ ٹیم کے کپتان داسن شناکا نے 2022 کے ایشیا کپ میں افغانستان سے آٹھ وکٹوں کی شکست کے بعد بلے بازوں کی تیاری پر سوال اٹھایا ہے۔ہفتہ کے میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا نے افغانستان کے سامنے 20 اوور میں صرف 106 رن کا ہدف رکھا تھا جو اس نے 59 گیندوں پر حاصل کر لیا۔ افغانستان کی جانب سے فضل حق فاروقی اور نوین الحق نے تباہ کن گیند بازی کرتے ہوئے کوسل مینڈس، پاتھم نسانکا اور چریت اسلنکا کی شکل میں ٹاپ تھری بلے بازوزں کو صرف پانچ رن پر پویلین بھیج دیا۔ سری لنکن ٹیم اس سے ابھر نہ سکی اور 105 رن پر آل آؤٹ ہوگئی۔کپتان شناکا نے میچ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے بلے بازوں سے پوچھنا ہوگا کہ کیا وہ تیار تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ فاروقی گیند کو دونوں طرف سے سوئنگ کرتے ہیں۔ نوین الحق بھی زیادہ تر وقت اسے سوئنگ کرتے ہیں۔یہ ویسا نہیں ہے جیسا ہمارے (گھریلو) حالات میں ہوتا ہے، ہمیں یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم اس کے لیے تیار تھے؟انہوں نے کہا کہ “یہ واقعی ایک اچھی پچ تھی۔ پہلے دو اوور نے پوری صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔ پچھلے دو برسوں میں یہ تشویشناک بات ہے کہ ہماری اوپننگ پارٹنرشپ نہیں رہی۔ ہمیں اسی جگہ پر فکر مند ہونا چاہیے۔”شناکا نے کہا کہ ابتدائی وکٹیں کھونے کے بعد کھیل میں واپس آنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، اور وہ خراب کارکردگی کا کوئی “بہانہ” نہیں دیں گے۔”شناکا نے کہا، “جب آپ پہلے اوور میں دو وکٹیں گنواتے ہیں، اور آپ پاور پلے کے اندر (7.2 اوور میں) چار وکٹیں کھو دیتے ہیں، تو کھیل میں واپس آنا واقعی مشکل ہوتا ہے۔ شکست ایک عام بات ہے، لیکن ہم اتنے بڑے مارجن سے ہارنے والی ٹیم نہیں ہیں۔۔ انہوں نے نئی گیند کے ساتھ واقعی اچھی گیندبازی کی، لیکن ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ آپ کو کسی بھی پوزیشن میں بیٹنگ کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔”(یواین آئی)