ہمارا معاشرہ عاجز اور درماندہ کیوں؟

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان ایک لمبی مدت تک دنیا کی بہترین قوم رہے،پھر اُن کا پَلاکچھ ہلکا ہوا اور وہ دوسری قوموں کے برابر ہوگئے،پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ بہت سی قوموں سے پیچھے ہوگئے۔ظاہر ہے کہ وہ بلندیوں کی چوٹیوں تک اُس وقت پہنچے تھے جب اُن کا تعلق اسلام کے ساتھ مضبوط تھا ۔جب یہ تعلق کمزور ہوگیا اور دونوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہوگیا تو وہ دھیرے دھیرے پیچھے جانے لگے یہاں تک کہ جو لوگ اُن سے پیچھے تھے ،وہ منزلوں سے آگے نکل گئے۔مسلمانوں نے نہ صرف زندگی کے اہم میدانوں میں اسلامی ہدایات کی خلاف ورزی کی بلکہ اسلامی حقائق کے بالائے طاق رکھ کر بہت سی خرابیوں اور بُرائیوں کو گلے لگایا ،جس کے نتیجے میں آج وہ ہر معاملے میں عاجز اور درماندہ نظر آرہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت پوری دنیا میں مادیت اور شہوانیت کا جو سیلاب آیاہوا ہے، اس نے تمام اخلاقی قدریں تہ وبالاد کرڈالی ہیں، معاشرتی نظام بے حیائی، بدکاری اور عریانیت کا مرکب بن چکا ہے، اخلاقیات کے نظام کو بے کرداری اور نفع پرستی کے مزاج نے زیروزبر کردیا ہے، معاملات کو سود اور حرام کی زنجیروں نے کچھ اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ امانت ودیانت، صداقت وراستی اور خیرخواہی کے اوصاف آخری سانس لے رہے ہیں۔انحراف اور بگاڑ کا یہ سیلاب پورے عالم میں آیا ہوا ہے اور مشرق ومغرب، عرب وعجم، شہرودیہات، کوئی خطہ اس سے محفوظ نہیں ہے۔ہمارے معاشرے کاکوئی بھی ذی ہوش فرد اس بات سے بالکل ناواقف نہیں کہ اسلام کسبِ حلال کی تعلیم دیتا ہے اور حرام مال خواہ کسی بھی ذریعے سے کمایا جائے، اُسے ناجائز قرار دیتا ہے، جس سے اجتناب ایمان اور بندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔کیونکہ بددیانتی ،بد عنوانی، کرپشن ،لوٹ کھسوٹ ، خیانت اور جھوٹ سے عالم میں فساد پھیلتا ہے اور نسل انسانی کو نقصان ہوتا ہے۔مگر جب کسی معاشرے کے اندردوسروں کے حقوق غصب کرنے، ان میں کمی کرنے اور خیال نہ رکھنے کی فضا پیدا ہوجائے تو ایسا معاشرہ ازخود فساد کی طرف بڑھتا ہے اور ایسی فضا میں پرورش پانے والے ہمیشہ دوسروں کا حق مارنے کی تگ ودو میں رہتے ہیں،وہ اپنے ذمے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر نہیں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سماجی اور معاشرتی رویوں میں بگاڑ آتا ہے۔بغور دیکھا جائے تو ہمارے یہاں بھی یہی بگاڑ عروج پاچکا ہے،جس کے نتیجے میں اب ہم نے تجارت کو خالص دنیاداری کا کام سمجھ لیا ہے، اس لئے ہمارا یہ ذہن بن گیا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی،دم دیانتی اور بے ایمانی کے بغیر اب تجارت کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ حالانکہ اگر تجارت اللہ کے خوف کے ساتھ کی جائے اور کسی کو دھوکا دینے کی غرض سے نہیں، بلکہ سچائی اور امانت داری کو اپنا معمول بناکر کی جائے اور ناجائز کاموں سے پرہیز کیا جائے تو یہی تجارت عبادت بنے گی اور حلال تجارت کے ذریعے حاصل شدہ رقم کو اپنے اور گھر والوں کے اوپر خرچ کرنے پر جہاںاجر عظیم ملے گا وہیں اس کی وجہ سے ہمیں آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی ۔مگر جب بیچنے والا ،چیز کے قابلِ ذکر عیوب کو چھپاکر کوئی چیز فروخت کرے یا خریدنے والا دھوکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو، تو خرید وفروخت میں کیسے برکت ہوسکتی ہے؟ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم خرید وفروخت میں بھی جھوٹ کا سہارالینا چھوڑ دیں، بلکہ ہمیشہ حق پرستی کا مظاہرہ کریں کیونکہ ہمارے اسلاف نے ہمیشہ سچ بول کر تجارت کی، اس لئے وہ ہر میدان میں کامیاب ہوئے تھے۔صداقت و امانت ،سچائی اور راست گوئی ایسی عمدہ اور قابل تعریف صفات ہیں، جن کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی، اسی لئے شریعت اسلامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے اور بار بار صداقت ،راست گوئی اور سچ بولنے کی تاکید کی گئی ہے۔لیکن آج ہمارا معاشرہ مختلف خرابیوں اور بُرائیوںکے ساتھ ساتھ مہنگائی اور ہوش رُبا گرانی کے جس عذاب سے دوچار ہے، وہ اُسی کرپشن، خیانت اور ناجائز منفعت پرستی کا شاخسانہ ہے، جس کی آوازیں ہر سمت سے اُٹھ رہی ہیں۔ شاید ہی کوئی شعبہ اور محکمہ ایسا ہو جو کرپشن سے خالی ہو۔ اگر کوئی دردمند اس کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ نشاندہی خود اس کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے۔ جس شخص کے پاس، جس قدر اختیار واقتدار ہے، اس کے کرپشن کا حجم عموماً اسی قدر بڑا ہوتا ہے۔ اس عمل کا نتیجہ گرانیِ اشیاء کے عذاب کی شکل میں بھی ہم سب کے سامنے ہے کہ اب ایک عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔جب تک صاحبِ اقتدار اور صاحبِ اختیارطبقہ اس وبا کو ختم نہیں کرے گا اور اصلاح احوال کے لیے فوری اقدامات اور کوشش نہیں کرے گا، گرانی اور مہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔