ہائی سکول سمرولا 2015میں اپ گریڈ تو ہوا تاہم اسامیاں منظور ہونا باقی ۔300 طلبہ کیلئے صرف 5 اساتذہ کی تعینات،سہولیات کی عدم دستیابی بھی مشکلات کا سبب

سمت بھارگو

راجوری//جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے مڈل سکول سے ہائی سکول میں اپ گریڈیشن کے نو سال بعد، محکمہ سکولی تعلیم نے ابھی تک ہائی سکول سمرولاکے لیے اضافی اسامیاں منظور نہیں کی ہیں جس سے مڈل سکول کا عملہ اس تعلیمی ادارے کے معاملات چلا رہا ہے اور طلباء کے والدین پریشان ہیں۔ وہاں تین سو سے زائد طلباء کی تعداد کے مقابلے میں صرف پانچ اساتذہ تعینات ہیں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن اس سکول کو ایک ‘ہنگ سکول سمجھتا ہے جس میں ان تمام سکولوں کا ذکر ہے جنہیں حکومت نے اپ گریڈ کیا تھا لیکن اپ گریڈڈ لیول کے لیے پوسٹیں ابھی تک منظور نہیں کی گئیں کیونکہ ان اداروں کو سابقہ درجے کا عملہ چلاتا ہے۔کالاکوٹ کے علاقے منما بنواری گاؤں کے مقامی رہائشی احمد دین نے بتایا کہ گورنمنٹ ہائی سکول سمرولا اس علاقے کا واحد ہائی سکول ہے اور تمام طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس ادارے پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سٹاف کے مسائل کے علاوہ سکول میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں جن میں پانی، بیٹھنے کی مناسب جگہ شامل ہے، سکول کی عمارت کی تعمیر کے چند سال میں سکول کا فرش بھی خراب ہونا شروع ہو گیا ہے۔سکول کی طالبہ سمرن دیوی نے بتایا “ہمیں تکلیف ہو رہی ہے کیونکہ کافی عملہ نہیں ہے اور دس کلاسوں کو پڑھانے کے لیے صرف پانچ اساتذہ موجود ہیں”۔انہوںنے کہاکہ سکول میں تعینات ہونے والوں میں سے ایک ٹیچر سکول کے ریکارڈ کے کام میں مصروف رہتا ہے اور سٹاف کی کمی بچوںکی پڑھائی کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ایک سکول ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکول میں صرف پانچ اساتذہ ہیں اور2015-16میں جب سکول کو اپ گریڈ کیا گیا تو کوئی اضافی پوسٹ منظور نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سکول اب ہینگنگ سکولزکیٹیگری میں ہے۔انہوں نے کہا کہ دستیاب عملہ بہترین تدریسی سیکھنے کے عمل کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایک ہائی سکول میں پانچ اساتذہ معاملات کو چلانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ڈی ڈی سی ممبرسمولا، شمیم اختر نے علاقے کے سرکاری تعلیمی اداروں کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالات کی بہتری کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔شمیم اخترنے کہا”ہمارے علاقے میں ہمارے بیشتر تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ سٹاف کی کمی کا شکار ہیں”۔ شمیم اختر نےہائی سکول سمرولا میں سٹاف کی کمی کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا اور محکمہ سکول ایجوکیشن سے سکول میں سٹاف تعینات کرنے کو کہا۔زونل ایجوکیشن آفیسرموگھلا عبداللطیف نے بتایا کہ گورنمنٹ ہائی سکول سمرولہ ‘ہائی سکول ہے اور اسے 2015میں اپ گریڈ کیا گیا تھا لیکن اپ گریڈیشن کے وقت اضافی اسامیاں منظور نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے سکول ہینگنگ سکول کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اضافی عملے کی طلب کے ساتھ مسئلہ اعلیٰ حکام کو پہنچا دیا گیا ہے۔