ہائی سکول بنکوٹ میں دس جماعتوں کے 160 بچوں کیلئے محض چار چھوٹے کمرے موجود

محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن کے بانہال علاقے میں گورنمنٹ ہائی سکول بنکوٹ بانہال علاقے کے قدیم ترین سکولوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے چند سال پہلے ہی درجہ بڑھا کر ہائی سکول بنایا گیا ہے۔ ہائی سکول بنکوٹ قصبہ بانہال سے دو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور یہاں زیر تعلیم بچوں اور تعینات سٹاف کو سکول عمارت کی شدید قلت کی وجہ سے ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہے۔اس سکول میں زیر تعلیم 160 سے زائد بچوں کیلئے چار چھوٹے چھوٹے اور چند ایک کم روشنی والے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر بچوں کو باہر سکول کے آنگن اور برآمدے میں تعلیم حاصل کرنا پڑ رہی ہے اور بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہونے اندیشہ ہے۔ سروشکھشا ابھیان کے تحت اس سکول کے دو اضافی کلاس روم تعمیر کرنے کے فوراً بعد خستہ ہوگئے تھے اور اب انہیں منہدم کرکے اس جگہ پر نئی سکول عمارت تیار کرنے کیلئے محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے ٹینڈر تو کئے گئے ہیں لیکن مالک زمین کو محکمہ تعلیم کی طرف سے سال سے معاوضہ اور نوکری نہ دینے کی وجہ سے نئی عمارت سکول کی تعمیر کا کام مالک زمین نے فی الحال روک دیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے غریب بچوں سے بھرے پڑے ہائی سکول بنکوٹ میں زیر تعلیم بچوں اور یہاں معقول تعداد میں تعینات اساتذہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہائی سکول بنکوٹ میں زیر تعلیم کئی بچوں کے والدین نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں سے نکال کر ہائی سکول بنکوٹ میں داخل کیا ہے لیکن سکول عمارت کی شدید قلت کی وجہ سے بچوں کو دھوپ اور بارش میں باہر بیٹھنا پڑتا ہے اور بارشوں کے دوران بچوں کی تعلیم متاثر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس جماعتوں میں زیر تعلیم بچوں کیلئے چار چھوٹے کمرے ہی موجود ہیں اور اساتذہ کو بچوں کی کلاسیں باہر لینا پڑتی ہیں اور بچوں کے شور سے کلاسیں اثر انداز ہوتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کو زمین دینے والے زمیندار کے ساتھ معاملہ حل کرکے نئی سکول عمارت کی تعمیر کا کام فوری طور شروع کیا جائے تاکہ داخلہ مہم کے بعد والدین کی طرف سے محکمہ تعلیم کے سرکاری سکولوں پر قائم کئے گئے بھروسے اور اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی سکول بنکوٹ کیلئے زمین کی کمی کی وجہ سے ہائی سکول کی موجودہ عمارت کو منہدم کرکے اسی جگہ پر نئی دو منزلہ سکول عمارت تعمیر کرنا ناگزیر بن گیا یے اور اسی سے ہائی سکول بنکوٹ میں سکول کمروں کی کمی کا حل مضمر ہے اور اس کیلئے اس کیلئے محکمہ تعلیم کے افسروں کو محکمہ تعمیرات عامہ اور ڈپٹی کمشنر رامبن سے رابطہ کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر چیف ایجوکیشن افسر رام بن دیو آنند نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سکول کی نئی عمارت کا کام زمیندار کے ساتھ معاوضہ اور نوکری کے تنازعہ کی وجہ سے شروع نہیں کیا جا سکا ہے اور انہوں نے مزید تفصیلات کیلئے زونل ایجوکیشن افسر بانہال سے رابط کرنے کیلئے کہا۔ اس بارے میں زونل ایجوکیشن افسر بانہال محمد شفیع گیری نے بتایا کہ ہائی سکول بنکوٹ کیلئے اضافی عمارت کیلئے ٹینڈر کئے گئے ہیں لیکن زمین عطیہ کرنے والے زمیندار نے محکمہ تعلیم کی طرف سے معاوضہ یا نوکری فراہم نہ کرنے کے مدعے کو لیکر عمارت کی تعمیر کا کام روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی سکول بنکوٹ کی تازہ صورتحال کے بارے میں چیف ایجوکیشن افسر رام بن کو ایک رپورٹ بھیجی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں زمیندار کے مطالبات کو حل کرنا ان کے حد اختیار میں نہیں ہیں تاہم انہوں نے اپنے اعلیٰ حکام کو معاملے کی نسبت سے آگاہ کیا ہے۔