سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کی تحصیل منجاکوٹ کے گنجان آباد علاقے گھمبیرمغلاں کا گزشتہ پانچ روز سے ضلع کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے۔ حالیہ موسلادھار بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث علاقے کو ملانے والی دونوں اہم رابطہ سڑکیں بند پڑی ہیں، جس سے ہزاروں افراد کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔گھمبیرمغلاں کا دیگر علاقوں سے رابطہ دو اہم سڑکوں کے ذریعے قائم تھا جن میںگھمبیرمغلاں۔بہروٹ۔تھنہ منڈی روڈ اور پٹراڑا۔منجاکوٹ۔گھمبیرمغلاں روڈ شامل ہیں تاہم حالیہ بارشوں کے دوران دونوں سڑکیں مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور شدید کٹاؤ کا شکار ہو گئیں، جس کے نتیجے میں آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پٹراڑا۔منجاکوٹ۔گھمبیرمغلاں سڑک پر پرائمری ہیلتھ سینٹر گھمبیرمغلاں کے نزدیک سڑک کا بڑا حصہ دریا نما نالے میں جا گرا ہے۔
تقریباً 50 سے 70 میٹر طویل سڑک مکمل طور پر بہہ جانے کے باعث اس راستے پر ہر قسم کی ٹریفک بند ہے۔اسی طرح گھمبیرمغلاں ۔بہروٹ۔تھنہ منڈی سڑک گالا کے مقام پر بڑے لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے بند پڑی ہے۔ اس مقام پر مٹی کے تودے گرنے سے کئی رہائشی مکانات بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں، جس کے باعث فوری طور پر ملبہ ہٹانے کا کام بھی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔رابطہ منقطع ہونے کے باعث علاقے کے لوگ شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے درمیان راستے میں گاڑیاں تبدیل کرنا پڑتی ہیں، جس سے وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیمار افراد، طلبہ، ملازمین اور روزانہ سفر کرنے والے شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سب سے پہلے منجاکوٹ۔پٹراڑا۔گھمبیرمغلاں سڑک کو بحال کیا جائے کیونکہ یہی راستہ فی الحال زیادہ اہم اور نسبتاً جلد بحال کیا جا سکتا ہے، جبکہ گالا کے مقام پر لینڈ سلائیڈ والے حصے کی بحالی موسم بہتر ہونے کے بعد ہی ممکن ہے، کیونکہ وہاں ملبہ ہٹانے سے خطرے سے دوچار مکانات منہدم ہونے کا اندیشہ ہے۔تھنہ منڈی کے رکن اسمبلی مظفر اقبال خان نے کہا کہ دونوں سڑکوں کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا گیا ہے، تاہم حالیہ بارشوں نے بنیادی ڈھانچے کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھمبیرمغلاں کو جموں۔راجوری۔پونچھ قومی شاہراہ اور منجاکوٹ سے ملانے والی مرکزی سڑک کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ ایک جانب دریا اور دوسری طرف گہری ڈھلوان ہونے کی وجہ سے عارضی بحالی کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موسم سازگار ہوتے ہی متعلقہ محکمے بحالی کے کام میں مزید تیزی لائیں گے تاکہ علاقے کا رابطہ جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔