گوہلد کا معذور مرکزی معاونت والی سبھی سکیموں سے باہر | آج تک پنشن نہ مل سکی ،پی ایم اے وائی سکیم کی فہرست میں بھی شامل نہیں

مینڈھر //سب ڈویژن مینڈ ھر کی سرحدی پنچایت گوہلد چوکی کا رہائشی غلام محمد جو کہ معذور کی وجہ سے ویل چیئر پر ہونے کے باوجود مرکزی معاونت والی سبھی سکیموں سے باہر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مذکورہ غریب کو اپنا وقت گزارنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں ۔معذور غلام محمد نے بتایا کہ وہ اور اس کا ایک بھائی ایک انتہائی بوسیدہ رہائشی مکان میں رہنے پر مجبور ہیں تاہم ابھی تک محکمہ دیہی ترقی کے زیر تحت چلائی جارہی پردھان منتری اواس یوجنا میں ان کا نام ہی شامل نہیں کیا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ دونوں کنبوں کے 15افراد ایک کچے رہائشی مکان میں زندگی بسر کررہے ہیں جس کسی بھی وقت انتہائی پرانا ہونے کی وجہ سے منہدم ہوسکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ معذوری کی حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ ان کا بھائی جوکہ مزدوری پیشہ سے وابستہ ہے ،محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین و آفیسران کے دفاتر میں کئی چکر کاٹ چکا ہے لیکن ابھی تک ان کو رہائشی مکان کی تعمیر کیلئے مرکزی سکیم کے زمرے میں لایا ہی نہیں جاسکا ۔معذور نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ کے ملازمین صرف ان افراد کو مذکورہ سکیم کا فائدہ پہنچاتے ہیں جو ان کو پیسہ دیتے ہیں جبکہ غریبوں کو اس سکیم کے زیر تحت محض اس لئے نہیں لایا جاتا کیونکہ وہ ملازمین کی جیبیں گرم نہیں سکتے ۔غلام محمد نے بتایا کہ ابھی تک ان کو پنشن بھی نہیں دی گئی جبکہ مذکورہ دفتر کے ملازمین بھی ان کی فائل کی جانب دھیان ہی نہیں دے رہے ہیں ۔معذور کے بھائی محمد دواد نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستانی افواج کی فائرنگ میں ان کے کئی مویشی ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے تاہم ابھی تک ان کے گھر کے قریب بنکر تعمیر ہی نہیں کیا گیا جبکہ ان کو مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی گئی لگ بھگ سبھی سکیموں سے باہر رکھا گیا جس کی وجہ سے ان کا اب زندگی بسرکرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے ۔اہل خانہ نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ان کو مرکزی معاونت والی سکیموں کا فائدہ پہنچایا جائے ۔بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر مینڈھر نے یقین دلاتے ہوئے کہاکہ مذکورہ کنبوں کو پردھان منتری اواس یوجنا کے تحت لانے کیلئے کوششیں کی جائیں گی ۔