گول بازارمیں غیرقانونی طور کھڑی گاڑیوں سے راہگیرپریشان

گول؍؍گول بازار میں سڑک کے بیچوں بیچ نجی و دوسری کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے جہاں ایک طرف سے راہگیروں اور دکانداروں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں عدالت عالیہ کی جانب سے حکم نامے کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے ۔ آئے روز گول بازارمیں اس طرح سے کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے جام لگنا شروع ہو گیا ہے اور کسی بھی وقت حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔ اگر چہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پولیس نے بازار میں کھڑی گاڑیوں کو نکالنے کے لئے ناکام کوششیں کیں لیکن نجی گاڑی مالکان ایک بھی نہ مانے ۔ یہاں پر سب سے بڑا مسئلہ بس اسٹینڈ کا بھی ہے جس وجہ سے مسافر گاڑیوں جن میں زیادہ تر سومو گاڑیاں شامل ہیں انہیں کھڑا رہنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گول بازار کے بیچ میں ایک نجی پارک بھی بنی تھی جس کو ایک مقامی شہری نے بنایا تھا اور انتظامیہ نے یقین دلایا تھا کہ اس پارک کو بنایا جائے اور بازار میں جو گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں وہ اس پارک میں لگ سکتی ہیں اور اس طرح سے روزگار کے مواقعے بھی پیدا ہوتے ۔ بازار میں سڑک کے کنارے قریباً ایک کلو میٹر سے ایک طرف سے نجی و مسافر گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے تعمیری میٹریل بھی ہفتوں ، مہینوں پڑا رہتا ہے اور اس کو بھی ہٹانے میں نہ ہی انتظامیہ کوئی رول ادا کر رہی ہے اور پولیس بھی خاموش بیٹھی ہوئی ہے ۔ اگر چہ چند ہفتے قبل انتظامیہ نے یقین دلایا تھا کہ گول بازار میں پڑا تعمیری میٹریل کو ہٹانے کے لئے وہ پولیس کا سہارا لے گی لیکن اس یقین دہانی پر کوئی عمل درآمد نہ ہوا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو چاہئے کہ وہ گول بازار میں ہو رہی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے تا کہ مسافروں کو چلنے ودکانداروں کو بھی پریشانیوں کا سامنا نا کرنا پڑے ۔