گور نمنٹ پرائمری سکول ’مغل ڈاب ‘کی عمارت منہدم طلباء کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ،والدین کو تشویش

عشرت حسین بٹ
منڈی//تحصیل منڈی کے صدر مقام سے قریب ایک کلو میٹر کی دوری پر واقع پنچایت اعظم آباد میں قایم گورنمنٹ پرائمری سکول مغل ڈاب کی عمارت گزشتہ تین برسوں سے منہدم ہوئی ہے جس کی وجہ سے طلباء کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیںلیکن متعلقہ حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ گورنمنٹ پرائمری سکول مغل ڈاب تعلیمی زون ساتھرہ کے زیر تحت ہے جس کی عمارت تین برس قبل زمین بوس ہوگئی تھی مگر سرکار کی جانب سے ابھی تک اس عمارت کی تعمیرنو کیلئے کوئی کام شروع ہی نہیں کیا گیا ہے ۔سماجی کارکن پیر زادہ بلال مخدومی نے بتایا کہ گزشتہ کئی عرصہ سے مذکورہ عمارت منہدم ہو ئی ہے ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ اور مقامی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ایک طرف انتظامیہ بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تو دوسری جانب دیہات میں قائم کردہ برائے نام سرکاری سکولوں میں بچوں کو سہولیات ہی دستیاب نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سکول میں قریب تیس بچے زیر تعلیم ہیں اور دو اساتذہ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیںلیکن طلباء کھلے آسمان تلے دھوپ میں اپنی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارشوں کے دوران بچے سکول نہیں آتے کیونکہ کے سکول کی عمارت نا قابل استعمال ہے جس کی وجہ سے بچوں کے والدین بچوں کو سکول بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ موصوف نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ پرائمری سکول بالکل سڑک کے نزدیک ہے اگر سرکار چار سالوں میں اس سکول کی عمارت کو تعمیر نہیں کر سکی تو وہ کس طرح سے بہتر نظام کے دعوئے کر سکتی ہے ۔انہوں نے اپنی بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ہمارے بچوں کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔ ان کے علاوہ وارڈممبرمحمد یونس نے کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر سے قریب پانچ سو میٹر کی دوری پر سکول کی عمارت منہدم ہوئی ہے لیکن کافی عرصہ سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیاجارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے والدین پریشان ہیں اور انہوں نے کئی بار محکمہ تعلیم کے زونل ایجوکیشن آفیسر ساتھرہ سے رجوع کیا لیکن ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری سکول کی عمارت کی تعمیر نو کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ ان کے بچوں کو بہتر تعلیم حاصل کرنے میں مدد مل سکے ۔زونل ایجوکیشن آفیسر ساتھرہ نے بتایا کہ منہدم ہوئے سرکاری سکولوں کی فہرست انتظامیہ کو سونپ دی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا فنڈز کی دستیابی کیساتھ ہی تعمیراتی عمل شروع کر دیا جائے گا ۔